انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 292
۲۹۲ سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث دُنیا کی حسنات میں ہمیں شریک اور حصہ دار بنا اور ہمیں اس کا وارث قرار دے تاکہ ہم دُنیا کی نعمتوں کو حاصل کر کے اور پھر ان نعمتوں کو تیری راہ میں قربان کر کے اپنی روحانی اور اُخروی حسنات کے لئے سامان پیدا کریں۔غرض حقیقت یہی ہے کہ دُنیا کی حسنات کے بغیر اُخروی حسنات مل نہیں سکتیں۔میں اس کی ایک مثال دے دیتا ہوں تا کہ بچے بھی سمجھ جائیں۔جو شخص دُنیا کی حسنات سے کلی طور پر محروم ہو جاتا ہے اس کے اوپر روحانی حکم لگتا ہی نہیں۔اس کے متعلق لوگ کہہ دیتے ہیں کہ وہ پاگل ہے۔اس لئے جہاں تک ایک مجنون کی دنیوی حسنات کے بارے میں محنت اور کمائی کا تعلق ہے یا اس کی کوشش اور مجاہدہ کا وہ۔سوال ہے وہ یہ کام کر ہی نہیں سکتا کیونکہ وہ پاگل ہے۔اس لئے ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اسے جسم اور زندگی بخشی۔اللہ تعالیٰ نے اس کو بھائی دیئے ، اس کو دوست دیئے اور اس کے ارد گر دخیال رکھنے والے انسان بنائے۔چنانچہ وہ اس کا خیال رکھتے ہیں لیکن جہاں تک اس کی اپنی طاقتوں کا سوال ہے۔اس کی کسی طاقت کے اوپر کوئی حکم نہیں چلا سکتا۔وہ اپنے جنون میں کسی آدمی کو قتل کر دیتا ہے تو حج کہتا ہے کہ پاگل تھا اس سے قتل ہو گیا۔ظلم ہو گیا لیکن اس کے اوپر کوئی الزام نہیں پس جو شخص مجنون ہے اس کے لئے دنیوی حسنات کی کمائی کے دروازے بند ہیں اور چونکہ دنیوی حسنات کی کمائی کے دروازے اس کے لئے بند ہیں اسی لئے اُخروی حسنات کی کمائی کا دروازہ بھی اس کے لئے نہیں کھولا جائے گا۔پس ہم ایسے شخص کو مرفوع القلم کہہ دیتے ہیں۔ہم اس پر نہ نیکی کا حکم لگاتے ہیں اور نہ بدی کا، نہ ہم یہ کہتے ہیں کہ اس نے مالی قربانی دی اور نہ یہ کہ اُس نے مالی قربانی نہیں دی مثلاً اگر کوئی مجنون یا مرفوع القلم آدمی اپنے باپ کی تجوری کو گھلا پائے اور وہاں سے دس ہزار روپے نکال کر جنون کی حالت میں کسی مستحق کو دے دے تو یہ نیکی شمار نہیں ہوگی کیونکہ اس نے جنون میں آکر ایسا کیا ہے یہ نیکی نہیں جنون ہے۔غرض یہ ایک حقیقت ہے اور قرآن کریم نے اسے بڑی وضاحت سے بیان کیا ہے کہ دنیوی حسنات کے بغیر اُخروی حسنات کے سامان پیدا نہیں ہوتے ، اس لئے کہ اُخروی حسنات کے سامان اللہ تعالیٰ کی راہ میں دنیوی نعمتوں کو خرچ کرنے سے پیدا ہوتے ہیں۔جس کے پاس نعمت ہی کوئی نہیں