انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 294
۲۹۴ سورة البقرة تغییر حضرت خلیفہ المسح الثالث جائیں۔بہر حال یہ مومن کی زندگی کی تصویر ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ مومن جب حقیقی مومن بن جاتا ہے تو اس کا قدم آگے ہی آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ استقامت اور صراط مستقیم قریباً ایک مفہوم میں استعمال ہو جاتے ہیں۔پس استقلال کے ساتھ اور استقامت کے ساتھ کام کرتے چلے جانا یہ مومن کی زندگی کی ایک نمایاں علامت ہے۔خطبات ناصر جلد ۵ صفحه ۴۸۲،۴۸۱) آیت ۲۰۵ تا ۲۰۷ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يُعْجِبُكَ قَولُهُ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَ يُشْهِدُ اللهَ عَلَى مَا فِي قَلْبِهِ وَهُوَ الدُّ الْخِصَامِ وَ إِذَا تَوَلَّى سَعَى فِي الْاَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيهَا وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ وَاللهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَه (۲۰۵) b وَإِذَا قِيلَ لَهُ اتَّقِ اللهَ اَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْإِثْمِ فَحَسْبُهُ جَهَنَّمُ وَ لَبِثْسَ الْمِهَادُ اسلامی تعلیم نے اس بات پر بڑا زور دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ فساد کو پسند نہیں کرتا۔وہ اسے اچھا نہیں سمجھتا۔وہ اس سے نفرت کرتا ہے۔میں نے یہ بھی بتایا تھا کہ عربی زبان میں فساد کا لفظ صلاح کے مقابلے پر آتا ہے اور معنی کے لحاظ سے دونوں لفظ آپس میں متضاد ہیں۔صلاح کے لفظ کا بنیادی مفہوم یہ ہے کہ انسانی حقوق و واجبات کو ادا کیا جائے اور حقوق و واجبات کی ادائیگی کی اہلیت بھی ہو۔اس کے مقابلے میں فساد کے معنے یہ ہونگے کہ حقوق و واجبات کی اہمیت نہیں۔یا اُنہیں جان بوجھ کر ادا نہیں کیا جا رہا۔تا ہم اہلیت نہیں کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حق واجب قرار دیا اور اہلیت پیدا نہیں کی بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانی فطرت میں اہلیت تو رکھی تھی لیکن اس کی نشو و نما نہیں ہو سکی اور نشوو نما اس لئے نہیں ہوسکی کہ جس شخص کو وہ خداداد قوتیں ملی تھیں اس نے ان کی نشوو نما کی طرف توجہ نہیں کی اور خود گناہگار بنا یا ماحول نے اسے نشو نما کا موقع نہیں دیا۔اس کے لئے سامان میسر نہیں آسکے۔اس لئے اس کی نشو و نما نہیں ہوسکی۔بہر حال فساد کے حقیقی اور بنیادی معنی ادا ئیگی حقوق کی اہلیت کے فقدان نیز حقوق و واجبات کے ادا