انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 283 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 283

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۸۳ سورة البقرة والی اور تیرے پیار کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے میں میری ممد اور معاون ہونے والی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔انسان اپنے نفس کی خوشحالی کے واسطے دو چیزوں کا محتاج ہے دنیا کی مختصر زندگی اور اس میں آنے والے مصائب، شدائد، ابتلا وغیرہ جو ہیں ان سے وہ امن میں رہے۔( یہ بیان میں اپنے الفاظ میں کر رہا ہوں ) اور دوسرے یہ کہ فسق و فجور اور روحانی بیماریاں جو انسان کو اللہ تعالیٰ سے دور لے جاتی ہیں، دنیوی نعمتوں کا غلط استعمال، دنیوی نعمتوں کا مہلک استعمال جن کے نتیجہ میں جسمانی بیماریاں بھی پیدا ہوتی ہیں جن کے نتیجہ میں ذہنی تنزل بھی پیدا ہوتا ہے، جن کے نتیجہ میں اخلاق بھی جل کے راکھ بن جاتے ہیں، جن کے نتیجہ میں وہ روحانی طاقتیں جو اس لئے انسان کو دی گئی تھیں کہ اللہ تعالیٰ زمین سے اٹھا کر اسے آسمانوں پر لے جائے وہ ضائع ہو جاتی ہیں اور بعض دفعہ تو بعض لوگ جو ایک حد تک رفعتیں حاصل کرتے ہیں وہاں سے گرتے ہیں زمین پر اور ریزہ ریزہ کر دیئے جاتے ہیں اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے تو فسق و فجور اور روحانی بیماریاں جو اسے خدا سے دور لے جانے والی ہیں وہ اس سے نجات یا دے۔دو چیزوں کی اپنی خوشحالی کے لئے انسانی نفس کو ضرورت ہے۔مصائب اور شدائد اور ابتلا ان سے امن میں رہے اور فسق و فجور اور روحانی بیماریوں سے نجات اسے حاصل ہو۔پس دوسری آیت میں اتنا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً جو کہا گیا ہے دنیا کا حسنہ یعنی دنیا سے تعلق رکھنے والی خدا کی نگاہ میں جو اچھی چیز انسان کو ملتی ہے وہ یہ ہے کہ کیا جسمانی اور کیا روحانی، انسان ہر ایک بلا اور گندی زیست اور ذلت سے محفوظ رہے یعنی خدا ہر ایک پہلو سے، دنیا کا ہو یا آخرت کا، اسے ہر بلا سے محفوظ رکھے اور جس رنگ میں خداد یکھنا چاہتا ہے انسان کو اور اس کے اعمال کو اس رنگ میں اسے اعمال صالحہ بجالانے کی توفیق عطا ہو۔یہ ہے فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً کے معنی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کئے ہیں اور وفی الْآخِرَةِ حَسَنَةً کے معنے آپ نے یہ کئے کہ دنیوی حسنہ کا اس طور پر استعمال کہ جس کے نتیجہ میں اُخروی حسنات انسان کو ملیں اور آپ فرماتے ہیں آخرت کا جو پہلو ہے وہ دنیا کی حسنہ کا ثمرہ ہے۔اس تمثیل میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دنیا کی حسنات کو ایک درخت کی شکل میں پیش کیا