انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 282
۲۸۲ سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ہمارے ذاتی حسن ، جسمانی حسن کے لوگ عاشق بنیں اور حقیقی حسن جو اخلاق کا حسن ، روح کا حسن ہے وہ ہم میں پیدا ہو یا نہ ہو وغیرہ وغیرہ، سینکڑوں بت ہیں جو بنائے ہوئے ہیں۔رب کے علاوہ سینکڑوں رب ہیں جن کی پرستش کرتے ہیں اور جو رب حقیقی ہے اس کی دھندلی سی تصویر کو جس کی حقیقت اور معرفت ابھی انہوں نے حاصل نہیں کی اس کو بھی اپنے سامنے رکھتے ہیں اور دعا کرتے ہیں اور دعا یہی ہوتی ہے کہ یہی دنیا ہے سب کچھ اس دنیا میں صحیح یا غلط طور پر ہمارے رفعتوں کے سامان دنیوی لحاظ سے کر دے اور ہمیں اونچا کر دے، ہماری قوت کو زیادہ کر دے خواہ وہ ظالمانہ ہی کیوں نہ ہو۔ہمارے فریب کو اور ہماری چوری کو ننگا نہ ہونے دے اور جو ہم فائدہ حاصل کریں چوری کے ذریعہ سے وہ مال ہمارے پاس ہی رہے اصل مالک کے پاس واپس نہ جانے پائے۔یہ دعا ہے ان کی جب وہ کہتے ہیں کہ اس دنیا کی چیز ہمیں دے دے اس حال میں کہ آخرت کا، خدا کے پیار کا ، خدا کی نعمتوں کا ان کے دماغ میں صحیح تصور قائم نہیں ہوتا۔وہ جو ربنا کہا گیا ہے۔پہلی آیت میں جس کا تعلق مانگنے والوں کا تعلق ، وہ ندا کرنے والوں کا تعلق صرف اس دنیا اور اس دنیا کی زندگی کے ساتھ ہے لیکن یہ جو دوسرا گروہ ہے وہ تو رب حقیقی کو ماننے والا ہے اور غیر اللہ سے کامل طور پر قطع تعلق کرنے کے بعد جو حقیقی مولا اور رب ہے اس کی طرف وہ رجوع کرنے والا ہے اور اسی کے سامنے سر نیاز کو جھکانے والا ہے اور اس کے علاوہ ہر شے کو مرے ہوئے کیڑے جتنی بھی وقعت نہیں دیتا۔تو جو رہنا یہاں دو آیتوں میں ہے ان کے معانی میں فرق ہے ایک معنی وہ ہیں جو ایک دنیا دار، دماغ کے ذہن میں ہیں اور جو حقیقی معنے نہیں، جس میں خدا کی خوشنودی کے حصول کے لئے ربنا کی ندا نہیں کی جاتی۔اور ایک دوسرے معنی ہیں جو ایک عارف کی ندا ہے، جو خدا تعالیٰ کی ذات اور صفات کی معرفت رکھنے والے کی دعا ہے جو خدا کے علاوہ ہر شے سے بیزار ہونے والے کی دعا ہے جو ہر چیز اپنے ربّ سے پانے کی امید رکھنے والے کی دعا ہے اور وہ دعا یہ نہیں کہ صرف یہ دنیا مجھے چاہیے۔دعا یہ ہے کہ اے خدا! اس دنیا کی وہ چیز مجھے نہ دے جو آخرت کی نعماء سے مجھے محروم کرنے والی ہو۔صرف وہ نعماء اس دنیا کی مجھے دے جو بتدریج تیری ربوبیت کے سایہ میں تیری بہتر سے بہتر نعماء تک لے جانے