انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 284 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 284

۲۸۴ سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث اور اُخروی زندگی کی حسنات کو ان درختوں کے پھل کی حیثیت سے پیش کیا تو جو خدا کا مومن بندہ اور معرفت الہی رکھنے والا ہے وہ دعا کرتا ہے رہنا ! اے ہمارے رب! تو بہ کرتے ہوئے تیری طرف واپس لوٹتا ہوں، تیرے غیر کو کچھ چیز نہیں سمجھوں گا، کامل بھروسہ تجھ پر رکھوں گا، ساری امیدیں تجھ سے وابستہ رہیں گی میری ، مجھے جو اس دنیا میں تو نے (جیسا کہ قرآن کریم نے اعلان کیا ) ان گنت نعماء سے نوازا ہے ان کے استعمال کی صحیح توفیق دے۔جس کے نتیجہ میں میری قوتیں اور استعدادیں صحیح نشو نما حاصل کر کے ایسے اعمال صالحہ بجالانے والی ہوں جو تجھے پسندیدہ ہوں جن پر تو مجھے انعام بھی دے، مقبول اعمال صالحہ کی مجھے توفیق دے اور اس کی شکل یہ بن جاتی ہے کہ اگر دنیا کے اعمال اور دنیا کی جد و جہد اور مجاہدہ حسنہ جسے کہا گیا ہے وہ درخت ہے تو اُخروی حسنہ جو ہے وہ ان درختوں کے پھل ہیں،اس لئے جب یہ شکل بنی تو ضمناً یہ بات بھی ہمارے سامنے آگئی کہ اسلام جو ہے وہ رہبانیت ان معنی میں کہ دنیا کی بہت سی جائز چیزوں کو بھی چھوڑ دینا، اس کو جائز نہیں سمجھتا۔اسلام یہ نہیں کہتا کہ دنیا کو چھوڑ اور میرے پاس آ۔اسلام یہ کہتا ہے کہ دنیا کی ہر چیز کا صحیح استعمال کر اور میرے پاس آ۔اگر چھوڑے گا ناشکرا ہوگا اور خدا کے نزدیک ناشکرا اور کافرہم معنے لفظ ہیں اور اگر دنیا کو چھوڑے گا نہیں میرے بتائے ہوئے طریق پر میری نعمتوں کو استعمال نہیں کرے گا، میری عطا کردہ قوتوں کو میرے بتائے ہوئے طریق پر خرچ نہیں کرے گا تو جنت سے نکال دوں گا تجھے۔دنیا کو چھوڑنا نہیں، دنیا میں رہ کر خدا کا بنا ہے، خدا کا ہو کر خدا کے لیے دنیوی زندگی گزارنی ہے، یہ ہے رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً دنیا میں جو حسنہ ملتی ہیں جو چیزیں جو نعما ملتی ہیں وہ سب اُخروی حسنہ کے حصول کا سامان پیدا کرنے والی ہیں۔موٹی مثال ہے صحت جسمانی صحت کا ہونا خدا تعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہے اور ایک صحت مند بد معاشیوں میں بھی اپنی صحت خراب کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کی ناراضگی کو مول لیتا ہے لیکن خدا کا صحت مند بندہ خدا کے حضورا اپنی صحت کے نتیجہ میں ایثار و اخلاص کے وہ کارنامے دکھاتا ہے کہ انسانی عقل حیران رہ جاتی ہے۔مثلاً صحابہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جو کسرگئی اور قیصر سے جنگیں ہوئیں ان میں ( تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے ) اتنا فرق ہوتا تھا تعداد میں۔مسلمانوں کی تعداد اس قدر کم اور کسریٰ کی حکومت جو بہت بڑی ایمپائر تھی اس وقت کی دنیا میں اور قیصر کی حکومت جو بہت بڑی ایمپائ تھی اس وقت کی دنیا میں ان کی فوجیں پانچ گنا سات گنا بعض