انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 277
۲۷۷ سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث سبق سیکھو کہ کتاب اللہ ( یعنی آسمانی شریعت) کو اور اس کے تمام احکام کو اپنا مطلوب بنانا ہے۔گویا وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللهُ لَكُمْ کے معنی یہ ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے جو فرائض تمہارے لئے مقرر کئے ہیں۔ان کو اپنا مطلوب اور مقصود بناؤ۔(اس کی قدرے زیادہ تفصیل میں آئندہ جا کر بیان کروں گا۔جہاں روزہ کی حکمت بیان کی جائے گی )۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ روزے کے دو حصے ہیں۔ان دونوں کے درمیان اس بنیادی اصل کو اللہ تعالیٰ نے بیان فرما دیا۔کہ ہم نے روزے کو اس لئے فرض کیا ہے تا تم یہ سمجھ لو اور خوب پہچان لو کہ تمہاری ترقیات کے لئے یہ ضروری ہے کہ تم سب فرائض کو اپنی زندگی کا مقصود اور مطلوب ٹھہراؤ۔ابتغاء کا ایک اور مفہوم بھی چسپاں ہوسکتا ہے۔وہ مفہوم ہے تجاوز کر جانا۔یہ تجاوز کبھی برا ہوتا ہے کبھی اچھا یہ دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے تو یہاں فرمایا وَ ابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللهُ لَكُمْ کہ اگر تم مقام محمود کو حاصل کرنا چاہتے ہو تو فرائض تک ہی نہ ٹھہر جانا بلکہ اس سے بھی آگے بڑھنا اور نوافل کے ذریعہ مقام محمود کو حاصل کرنے کی کوشش کرنا۔اسی لئے رمضان کے روزوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے بہت سے نوافل جیسا کہ میں بعد میں بتاؤں گا بیان فرما دیئے ہیں۔تو وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ الله للھ کے تیسرے معنی یہ ہیں کہ تم فرائض کے علاوہ نوافل کی طرف بھی متوجہ رہنا۔اس کے بغیر تمہیں مقام محمود حاصل نہیں ہوسکتا۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ تمہیں صبح کی سفید دھاری رات کی سیاہ دھاری سے الگ نظر آنے لگے اس کے بعد صبح سے رات تک روزوں کی تعمیل کرو۔ماہ رمضان کے ساتھ جو فرض تعلق رکھتا ہے وہ ہے روزہ رکھنا۔اب یہاں ہمیں یہ بتایا کہ روزہ صبح سے لے کر شام تک رکھنا ہوگا اور اس روزے کے وقت میں جہاں کھانے پینے سے رکنا ہو گا وہاں جنسی تعلقات سے بھی احتراز ضروری ہوگا۔ہر مومن بالغ اور عاقل کے لئے ضروری ہے کہ وہ روزہ رکھے اگر وہ بغیر جائز عذر شرعی روزہ نہیں رکھے گا تو وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک گنہگار ٹھہرے گا۔خطبات ناصر جلد اول صفحه ۶۸ تا ۷۰ ) میں نے فاسق فاجر کے متعلق کہا تھا کہ وَمَا دُعَاء الكَفِرِينَ إِلَّا فِي ضَلل ( المؤمن :۵۱) قرآن کریم نے اعلان کیا کہ جو مومن اور مسلم نہیں ناٹ مسلم Not Muslim) ہیں ان کی دعا اور چیخ و پکار