انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 276 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 276

تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث سورة البقرة جائز نہیں خیال کیا جاتا تھا فرمایاوہ تمہارے لئے ایک قسم کا لباس ہیں۔یعنی تقویٰ کا ایک پیر بہن تم ان کے ذریعہ حاصل کرتے ہو۔اسی طرح تم بھی ان کے لئے تقویٰ کا پیرہن ہو۔گویا تم ایک دوسرے کے لئے تقویٰ اللہ کے بعض تقاضوں کے پورا کرنے کا ذریعہ بنتے ہو۔اس کے بعد فرمایا عَلِمَ اللهُ أَنَّكُمُ كُنْتُمْ تَخْتَانُونَ أَنْفُسَم کہ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ تم اپنے نفسوں کی حق تلفی کرتے تھے یہ حق تلفی کرنے کے معنی نئے ہیں۔کیونکہ پہلی بار غالباً حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے تفسیر صغیر میں یہ معنی بیان فرمائے ہیں۔ورنہ پہلے مفسر اس کا کچھ اور ہی ترجمہ و تفسیر کیا کرتے تھے۔تو فرمایا مجھے معلوم ہے کہ تم اپنے نفسوں کی حق تلفی کرتے تھے اور جہاں تک تسکین نفس کی تمہیں اجازت دی گئی ہے۔تم اس سے بھی پرہیز کرتے تھے۔یہ دیکھ کر اس نے اپنے فضل سے اپنا یہ حکم تمہارے لئے کھول کر بیان کر دیا۔اور عفا عنكم اس طرح تمہاری حالت کی اصلاح کر دی اور تمہاری عزت کے سامان کر دیئے۔یہاں خدا تعالیٰ نے ایک بنیادی اصول کی طرف بھی متوجہ کیا ہے۔اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ کی رضا کی راہوں کی تعیین اگر بندہ اپنے طور پر کرنے لگے۔تو وہ اپنے حقوق بھی تلف کر جاتا ہے اور دوسروں کے ا حقوق کا تو کہنا ہی کیا۔اس لئے دین کے معاملہ میں یہ ضروری تھا کہ قرب کی راہوں اور شریعت کے اصول کی تعیین آسمان سے وحی الہی کے ذریعہ کی جائے۔ورنہ انسان غلطیاں کرے گا۔اور اپنے بھی اور دوسروں کے حقوق بھی تلف کر دے گا۔تو فرمایا قالن باشِرُوهُنَّ اس لئے ہم نے تمہارے حقوق کی حفاظت کے لئے اس شریعت کو نازل کیا ہے اور تمہارے فائدے کے لئے ہی سب احکام اُتارے گئے ہیں۔پس اب تم بلاخوف لَوْمَةَ لائِمٍ اپنی بیویوں کے پاس جاؤ۔وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ الله لكم اور جو کچھ اللہ تعالی نے تمہارے لئے مقدر کیا ہے۔اس کی جستجو کرو۔وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللهُ لَكُمْ کے دو اور معنی بھی ہیں۔اوّل بغی کے معنی طلب کرنے کے ہوتے ہیں اور کتاب ان فرائض کے مجموعہ کو کہتے ہیں جو وحی کے ذریعہ بطور شریعت انسان کو دیا جاتا ہے۔فرمایا کہ تم روزے اس نیت سے رکھو۔یا یہ کہ ہم نے روزوں کو تم پر اس لئے فرض کیا ہے کہ تا تم یہ