انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 278 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 278

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۲۷۸ سورة البقرة ضائع ہو جاتی ہے قبول نہیں کی جاتی۔مومن کے متعلق کیا کہا ؟ مومن کے متعلق یہ کہا وَ إِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِى فَإِنِّي قَرِيبٌ جو میرے بندے بن جائیں حقیقی معنی میں میرے ہو جا ئیں تو ان کے دل میں تڑپ ہوگی کہ اللہ تعالیٰ ہماری دعاؤں کو قبول کرے اور ہم سے ہم کلام ہو۔پس قرآن کریم نے یہ بھی فرمایا میں تمہاری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہوں۔قرآن کریم نے یہ بھی فرمایا کہ میں تمہارے اپنے نفوس اور تمہارے رشتہ داروں سے بھی تمہارے زیادہ قریب ہوں۔أجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ جو پکارے گا مجھے مومن اور مسلم اس کو میں جواب دوں گا اور ان کو بھی چاہیے کہ وہ میرے حکم کو قبول کریں یعنی سچے مومن رہنے کی، سچے مسلمان بننے کی کوشش کرتے رہیں اور ایمان پر مضبوطی سے قائم رہیں تا کہ قبولیت دعا کے نتیجہ میں ہدایت پر اور زیادہ پختہ ہو جا ئیں۔یہ ہدایت کوئی ایسی ٹھوس چیز نہیں کہ جو بس ایک دفعہ مل گئی ایک جیسی ہر ایک کومل گئی اور ختم ہو گیا معاملہ بلکہ اس ساری زندگی میں بھی ہدایت میں ، قرب الہی میں ، خدا تعالیٰ کے پیار کے حصول میں اس کی رضا کی جنتوں کا جو تخیل ہے کہ آدمی کو حاصل ہو جاتی ہیں اس کی رضا کی جنہیں وہ اس میں ٹھہرتی نہیں بلکہ ہر آن ، ہر روز، ہر مہینے میں اس میں زیادتی ہونی چاہیئے اور جو سچا حقیقی مومن ہے ہوتی ہے زیادتی اور بعض لوگوں کا خیال ہے کہ مرنے کے بعد جس جنت کا وعدہ دیا گیا ہے اس میں عمل کوئی نہیں۔قرآن کریم کی آیات اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تفسیر ہمیں بتارہی ہے کہ عمل میں وہاں لیکن امتحان نہیں یعنی عمل ہے اس کی جزا ملے گی ، وہاں یہ خطرہ نہیں ہے کہ امتحان میں کوئی شخص فیل ہو جائے گا اور جنت سے نکال دیا جائے گا۔یہ خطرہ نہیں ہے اطمینان کی زندگی ہے، خدا کا پیار جو ہے وہ ہر روز بڑھتا چلا جائے گا۔یہاں تو یہ کہا گیا تھا جو دعا کرنے والا مجھے پکارے تو اس کی دعا قبول کرتا ہوں یہاں یہ نہیں کہا گیا تھا کہ ہر مسلمان مومن کو ضرور مجھے پکارنا چاہئے۔ایک اصول بیان کیا۔سورہ مومن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن: ۶۱) دعا ئیں کرو مجھ سے، پکارو مجھے۔وہاں حکم دیا ہے اور اتنا زور دیا ہے دعا کرنے پر کہ مومن مسلمانوں کو کہا کہ تم یہ نہ سمجھنا کہ تم میرے حضور عمل کی دنیا میں کچھ پیش کر رہے ہو۔نماز پڑھ رہے ہو، زکوۃ دے رہے ہو، دوسرے نیک اعمال بجالا رہے ہو مَا يَعْبَوا بكُمُ رَبِّي لَولا دُعَاؤُكُمْ (الفرقان : ۷۸) اگر تم دعا نہیں کرو گے تمہارے دوسرے اعمال بھی قبول