انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 259
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۵۹ سورة البقرة پیدا ہو گئے تھے ان کو دور کرنے کا سامان پیدا کر دیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن کریم کی شکل میں ایک کامل اور مکمل شریعت انسان کے ہاتھ میں دے دی گئی۔ان تینوں باتوں کی تفسیر تو لمبی ہے لیکن میں نے مختصرا ان کی طرف اشارے کر کے آپ کو سمجھانے کی کوشش کی ہے۔جب کامل شریعت آگئی اور اس نے فرقان ہونے کا دعوی کیا تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبُ اس کی ایک تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ فرمائی ہے کہ جب خدا تعالیٰ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والے یہ پوچھیں کہ اس شریعت پر ہم ایمان لے آئے ہیں اب ہمارے اور پہلوں کے درمیان قرآن کریم نے کیا فرق، کیا تمیز پیدا کی ہے، ہم میں اور پہلی شریعتوں کے ماننے والوں میں شریعتِ اسلامیہ نے کیا امتیاز پیدا کیا ہے؟ تو اس کا جواب یہ دیا فانی قریب کہ پہلوں کو دیکھو وہ میرے قرب سے محروم ہو چکے ہیں میرے دربار سے دھتکارے ہوئے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ پر ایمان لا کر اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا کر اور آپ کو اُسوہ بنا کر اور قرآن کریم کی تعلیم پر عمل کر کے تمہارا یہ مقام ہے کہ تم ان کی طرح دُور اور مہجور نہیں ہو بلکہ میرے مقرب ہو فانی قریب تم میں اور تمہارے غیر میں امتیاز یہ ہے کہ میں مسلمان کے قریب ہوں أجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ اور جب وہ مجھ سے دعا مانگتا ہے تو میں اس کی دعا کو قبول کرتا ہوں اور اپنے الہام کے ذریعے اس قبولیت کی بہتوں کو بشارت دیتا ہوں لیکن یہ شرط اپنی جگہ قائم ہے کہ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي بشرطیکہ تم میرے حکم کو قبول کرو وَلْيُؤْمِنُوا ٹی اور اپنے ایمان پر حقیقی طور پر ثابت قدم رہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ دعا نتیجہ ہے ایک اور چیز کا اور وہ سلسلہ چلتا ہے فضل سے۔اصل یہ ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو شناخت کرتا ہے تو اس میں اور ایک غیر مسلم میں جو امتیاز پیدا کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے فضل کو جذب کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل کو جذب کر کے وہ معرفت حاصل کرتا ہے یعنی خدا تعالی کی صحیح شناخت کرتا ہے، اس کی عظمت اس کے دل میں بیٹھتی ہے اور اس کی کبریائی اور اس کے جلال سے وہ آشنا ہوتا ہے اور اس کے نتیجہ میں ایک ہی وقت میں ایک ہی ہستی اللہ کے متعلق اس کے دل میں محبت اور خوف پیدا ہوتا ہے اور پھر اس کے نتیجہ میں اسے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔(خطبات ناصر جلد ہفتم صفحه ۱۴۶ تا ۱۴۸)