انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 260 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 260

۲۶۰ سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ہے وہ قرآن جو تمام انسانوں کے لئے ہدایت بنا کر بھیجا گیا ہے اور جو کھلے دلائل اپنے اندر رکھتا ہے ایسے دلائل جو ہدایت پیدا کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی قرآن میں الہی نشان بھی ہیں اس لئے تم میں سے جو شخص اس مہینہ کو دیکھے اسے چاہیے کہ وہ اس کے روزے رکھے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ ماہ رمضان کا بہت گہرا تعلق قرآن سے ہے۔جہاں تک قرآن کے رمضان میں نازل ہونے کا تعلق ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ جبریل علیہ السلام رمضان میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر قرآن کا دور کیا کرتے تھے اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ساری کی ساری آیات رمضان میں بھی نازل ہوئیں۔اس لحاظ سے یہ بیان بھی درست ہے کہ سارا قرآن رمضان میں اُترا۔پھر اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی تین بنیادی صفات کا ذکر کیا ہے۔پہلی صفت یہ بتائی کہ قرآن هدى للناس ہے یعنی یہ نوع انسان کے لئے ہدایت کا موجب ہے۔النّاس کے لفظ میں مرد اور عورتیں دونوں شامل ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت كافة للناس کی طرف ہوئی ہے یعنی مردوں اور عورتوں دونوں کی طرف۔اسی لئے قرآن کی ہر آیت دونوں کے لئے ہے اور ہر قرآنی حکم میں مردوزن دونوں کو مخاطب کیا گیا ہے۔بعض آیات ایسی ہیں جن کا تعلق صرف عورتوں سے ہے اور انہی سے ہوسکتا تھا۔جیسے حمل اور دودھ پلانے سے متعلق آیات۔یہ استثنائی احکام ہیں ورنہ ہر آیت النّاس کے لئے ہے اور اس میں مرد اور عورت دونوں شامل ہیں۔قرآن دونوں ہی کے لئے ہدایت کا موجب ہے۔ہدایت کے حقیقی اور بنیادی معنے یہ ہیں کہ اسلامی تعلیم ان راہوں کی طرف رہنمائی کرتی ہے جو خدا تک پہنچانے والی ہیں۔خدا غیر ذاتی نہیں بلکہ ذاتی خدا ہے یعنی ہر وہ شخص جو اسلام پر عمل کرتا ہے وہ خدا سے ایک زندہ تعلق قائم کرتا ہے۔دوسری بنیادی صفت قرآن کی وَ بَيِّنَةٍ مِنَ الْهُدی ہے۔اللہ تعالیٰ نے ایک محدود دائرہ میں آزادی دے کر انسان کو قرآن کی شکل میں ایسی تعلیم دی ہے جو خدا تک پہنچانے والی ہے۔انسان کو چونکہ آزادی دی گئی ہے کہ وہ اپنی مرضی سے کام کرے اس لئے وَ بَيِّنَتٍ مِّنَ الْهُدَی کی رو سے قرآن ہر بات کی دلیل دیتا ہے۔پر