انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 258 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 258

۲۵۸ سورة البقرة تغییر حضرت خلیفہ المسح الثالث اور دوسری تبدیلی یہ آئی کہ جو شریعت ان پر نازل ہوئی تھی اس کو بھی بہت حد تک وہ بھول گئے اور بہت سی بدعات اس میں شامل ہو گئیں۔پس قرآن کریم نے وہ بنیادی صداقتیں جو پہلی شریعتوں کے اندر پائی جاتی تھیں لیکن پہلی شریعتوں کے مخاطب انہیں بھول چکے تھے وہ ہدا یتیں پھر لوگوں کو سکھائیں اور انسان کو ان سے متعارف کرایا۔یہ ھدی للناس کے ایک معنی ہیں۔وَبَيِّنَةٍ مِنَ الهُدی دوسری بات جو قرآن کریم کی عظمت کو ثابت کرتی ہے یہ ہے کہ پہلی شریعتوں اور ہدایتوں میں جو باتیں اور جو صداقتیں مجمل طور پر پائی جاتی تھیں قرآن کریم نے ان کے اجمال کو دور کیا اور پوری حقیقت کھول کر انسان کے سامنے رکھ دی اور تیسری بات یہ ہے کہ وَالْفُرْقَانِ۔چونکہ پوری کتاب اور کامل ہدایت جو قرآن میں نازل کی گئی وہ پہلی شریعتوں اور ہدایتوں میں نہیں تھی اس لئے وقت گذرنے پر ان کے اندر اختلاف پیدا ہوا اور چونکہ زمانہ زمانہ کی ہدایت اور ملک ملک کی ہدایت میں فرق تھا اس لئے بنیادی طور پر جو مذہب اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کی طرف بھیجا گیا تھا اس کے اندر ایک اختلاف پیدا ہو گیا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کچھ کہا، آپ نے کہا کہ اگر کوئی تجھے تھپڑ لگاتا ہے تو تو کبھی اسے تھپڑ لگا اور حضرت عیسی علیہ السلام نے کچھ اور کہا، انہوں نے کہا کہ اگر کوئی تیرے ایک گال پر تھپڑ لگاتا ہے تو تو دوسرا گال بھی آگے رکھ دے۔پس ہدایت میں اور تعلیم میں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی تھی فرق پیدا ہو گیا اور اختلاف پیدا ہو گیا لیکن یہ اختلاف تب پیدا ہوا جب یہود نے حضرت مسیح کے ماننے سے انکار کر دیا اور بدلے ہوئے حالات کے مطابق ان کی اصلاح کے لئے جو حکم نازل ہوا تھا کہ نرمی اختیار کرو تمہارے اندر سختی زیادہ پیدا ہو چکی ہے۔چونکہ انہوں نے حضرت مسیح کو نہیں مانا اس لئے ان کی اس تعلیم کو بھی نہیں مانا اور پہلی تعلیم جو جزوی اور غیر مکمل تھی ، جو حقیقی تعلیم کا ایک حصہ تھی اس پر قائم رہے اور حقیقی تعلیم کا جو دوسرا حصہ حضرت مسیج لے کر آئے تھے اس کو ماننے سے انکار کیا اور اس طرح اختلاف پیدا ہو گیا۔انہوں نے کہا کہ تم خدا تعالیٰ کی طرف سے کیسے ہو سکتے ہو جب کہ پہلی شریعتوں سے اس قسم کے اختلاف کرنے والے ہو حالانکہ انسانی فطرت بھی اپنی ترقی یافتہ حالت میں پہلی شریعتوں کے ساتھ پورے طور پر اتفاق نہیں کر سکتی تھی۔اس واسطے تیسری بات قرآن کریم میں یہ پائی جاتی ہے کہ اس نے حق و باطل میں کھلا فرق کر کے ان میں تمیز پیدا کر کے تمام پہلی ہدایتوں کے ماننے والوں میں جو اختلاف