انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 247 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 247

۲۴۷ سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ روزہ جو ہے اس روزے کے اندر رمضان کے اندر ساری چیزیں آتی ہیں خاص وقت تک خاص شکل میں کھانے پینے سے رکے رہنا خالی یہی روزہ نہیں ہے بلکہ بہت ساری اور باتیں رمضان سے تعلق رکھتی ہیں احکام رمضان سے تعلق رکھتی ہیں ان کو بجالانا اور خیال رکھنا کہ کوئی غلط چیز نہ ہو جائے تا کہ ہمارا روزہ کامل شکل میں ہمارے رب کے حضور پیش ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اگر اسی رنگ میں روزہ رکھا جائے اور خدا تعالیٰ اسے قبول کر لے تو اس کے نتیجہ میں تنویر قلب حاصل ہوتی ہے اور انسان کا دل منور ہو جاتا ہے یہی فرقان ہے اور اس سے کشف کا دروازہ کھلتا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اسی مادی دنیا میں جس حد تک انسان کی سمجھ اور پہچان اور علم اور نظر اور بصارت میں آسکتا ہے وہ آجاتا ہے۔اللہ تعالی کو دیکھنے کا دروازہ کھل جاتا ہے یہ تنویر قلب ہے جس یہ تمام اکابر صوفیاء کا اتفاق ہے کہ روزہ کے نتیجہ میں تنویر قلب حاصل ہوتی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک ایسا زندہ تعلق پیدا ہو جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے وجود کے نور کی نہریں ایسے لوگوں کے لئے جاری کرتا ہے اور اپنے نور کی لہریں انہیں دکھاتا ہے تنویر قلب ہوتی ہے جو حجابات ہیں وہ دُور ہو جاتے ہیں کشف الغطاء ہو جاتا ہے دل میں ایک نور پیدا ہوتا ہے جس حد تک انسان کے دل میں پیدا ہو سکتا ہے ہر ایک نے اپنی استعداد کے مطابق اس نور کو حاصل کرنا ہے اور اس نور کی پیدائش کے بعد انسان کے اس منور دل کا اس ہستی کے ساتھ ایک زندہ اور پختہ تعلق پیدا ہو جاتا ہے جو نُورُ السَّبُوتِ وَالْأَرْضِ ہے اور پھر وہ اس نور کے جلوے دیکھنے لگتا ہے یہ معنی ہیں تنویر قلب کے اور یہ معنی ہیں کشوف کے اور پہلا درجہ اس کا یہ ہے کہ ایسا شخص انا الْمَوْجُودُ کی آواز سنتا ہے کیونکہ تعلق کا پیدا ہو جانا کوئی فلسفہ تو نہیں یہ تو ایک حقیقت ہے یا اس کا عدم ایک حقیقت ہے کہ یا وہ تعلق پیدا ہو گیا یا نہیں ہوا یہ کوئی فلسفیانہ خیال نہیں تو روزہ کے نتیجہ میں امتیازی مقام حاصل ہوتا ہے۔روزہ کے نتیجہ میں وہ مقام حاصل ہوتا ہے جو انسان دوسرے مذاہب سے علی وجہ البصیرت یہ بات کر سکتا ہے کہ ہم نے اسلام کی برکات سے جونور حاصل کیا ہے وہ تمہیں حاصل نہیں اور ان چیزوں کے لئے پھر دعا کی ضرورت ہے۔اسی واسطے ان آیات کے ساتھ ہی دعا کی طرف متوجہ کیا کہ اگر تم خلوص نیت کے ساتھ اور کامل عاجزی کے ساتھ دعا کرو گے تو میں اسے قبول کروں گا میں نے بتایا تھا کہ ھدی للناس والا حصہ جو ہے یعنی ہدایت کا معلوم ہو جانا وہ عام ہے ہر