انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 246
۲۴۶ سورة البقرة تغییر حضرت خلیفہ المسح الثالث سے ایک دوسرے کے اموال سے ناجائز فائدہ نہ اٹھایا کریں ہر شخص یہ سمجھ سکتا ہے کہ قرآن کریم کہتا ہے کہ دوسروں کے اموال سے ناجائز فائدہ نہیں اٹھانا اور دوسروں کے اموال کو نا جائز نقصان نہیں پہنچانا اس میں وسیع مضمون آ جاتا ہے لیکن وسعت میں جائے بغیر اتنی بات کہ دوسروں کے اموال باطل راہوں سے کھانے نہیں میں سمجھتا ہوں کہ ایک بچہ بھی سمجھ سکتا ہے چھ سات سال کے بچے کے سامنے یہ تعلیم رکھیں تو وہ سمجھ جائے گا کہ قرآن کریم نے یہ ہدایت دی ہے ایک تو ہمیں اس طرف متوجہ کیا کہ ہر مسلمان کو قرآن کریم کی ہدایت کا علم ہونا چاہیے قرآن کیا کہتا ہے قرآن کس چیز سے روکتا ہے تو یہ ایسی چیز نہیں کہ جس کے متعلق کوئی شخص کہے کہ چونکہ میں پڑھا ہوا نہیں اس لئے ہدایت کا میں علم حاصل نہیں کر سکتا جو پڑھا ہوا نہیں وہ سن کر اس بات کو سمجھ سکتا ہے مثلاً یہاں اس خطبہ کے دوران بھی بہت سے دوست ایسے ہیں کہ جن کو مروجہ علم جو ہے اسے حاصل کرنے کی توفیق نہیں ملی لیکن وہ بھی اس بات کو سمجھ سکتے ہیں کہ یہ بات واضح ہے اور اس میں کوئی پیچیدگی نہیں پائی جاتی کہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ نماز اپنی شرائط کے ساتھ ادا کرو اور دوسروں کے اموال نہ کھایا کرو یہ بات ہر شخص سمجھ سکتا ہے چاہے وہ لکھنا پڑھنا جانتا ہے یا نہیں جانتا تو فرمایا یہ ھدی للناس ہے ہر شخص اس کی ہدایت کا علم حاصل کر سکتا ہے رمضان کے مہینہ میں کثرت سے تلاوت کرنی چاہیے اور اس نیت سے کرنی چاہیے اور غور کرنا چاہیے کہ قرآن کریم نے جو ہدایتیں دی ہیں ہمیں اس زندگی میں تاکہ یہاں کی زندگی بھی کامیاب ہو اور وہاں کی زندگی بھی پرسکون اور راحت بخش ہو وہ کیا ہیں؟ دوسری بات جس کی طرف اس آیت میں توجہ دلائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ وہ صرف ہدایت ہی نہیں دیتا بلکہ یہ حکیم کتاب ہے اور حکیم خدا کی طرف سے نازل کی گئی ہے وہ دلائل بھی دیتا ہے تو جن کو دلائل کے سمجھنے کی قوت اور استعداد حاصل ہو تو اس استعداد کو کام میں لا کر رمضان کے مہینہ میں قرآن کریم کی تلاوت کثرت سے کی جائے تو یہ حکمت معلوم کرنے کی بھی کوشش کریں جس سے قرآن کریم بھرا ہوا ہے۔اور تیسری بات جس کی طرف ہمیں متوجہ کیا ہے وہ یہ ہے کہ یہ فرقان بھی ہے یعنی حق و باطل میں امتیاز پیدا کرنے والا ہے اگر تم خلوص نیت کے ساتھ اور تمام شرائط کو پورا کرتے ہوئے رمضان کے مہینہ میں قرآن کریم پر غور کرو گے اور اس پہلو کی برکت سے بھی حصہ لینے کی کوشش کرو گے تو تمہیں بھی ایک امتیازی مقام اللہ کی طرف سے حاصل ہوگا۔