انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 248
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۴۸ سورة البقرة شخص اسے سمجھ سکتا ہے لیکن اس ہدایت پر عمل کرنے کی توفیق پانا مشکل ہے جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ تو فیق حاصل نہ ہو تو اگرچہ ہدایت کا سمجھ لینا علم کا حاصل کر لینا آسان ہے لیکن ہدایت پر عامل ہو جانا بڑا مشکل ہے اس لئے ہمیں دعا کی ضرورت ہے جب تک دعا کے ذریعہ اللہ تعالی کی توفیق کو ہم حاصل نہ کریں ہدایت کی راہوں کا علم ہو جانے کے باوجود بھی ہدایت کی ان راہوں پر چلنے کے ہم قابل نہیں ہوتے۔پھر بینات یعنی حکمت کی باتیں ہیں اس کا تو ہے ہی دعا کے ساتھ تعلق اپنا تو اس میں کوئی ہے ہی نہیں یعنی جو عام استعداد انسان کو خدا نے دی ہے اس استعداد اور عقل کے نتیجہ میں ہدایت کو حاصل کیا ہے اس پر عمل کرنے کے لئے دعا سے اللہ کی توفیق پانا ضروری ہے لیکن حکمت کی باتیں، رموز جو ہیں ہدایت کے اندر چھپے ہوئے کہ کیوں یہ احکام دیئے گئے ہیں ان کا تعلق دعا صرف دعا سے ہے قرآن کریم سے علوم کا حاصل ہو جانا طہارت پر منحصر ہے لَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ ( الواقعه : ٨٠ اور وہ تزکیہ نفس جس کے نتیجہ میں قرآن کریم کے علوم کھلتے ہیں وہ بازار سے نہیں خریدے جا سکتے نہ کسی مدرس سے حاصل کئے جاسکتے ہیں وہ تو خدا تعالیٰ سے ہی مل سکتے ہیں اور دعاؤں سے ہی حاصل کئے جاسکتے ہیں پھر تنویر قلب یعنی پردوں کا ہٹ جانا اور خدا کے نور کا سامنے آجانا اور اپنی اپنی استعداد کے مطابق جو دل میں نور پیدا ہوا ہے اس کا اس نور کے ساتھ جو نُورُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ ہے ملاپ پیدا ہو جانا یا انا المَوْجُودُ کی آواز سن لینا یہ تو حض اللہ تعالیٰ کے فضل پر ہے اور اسے بھی دعا سے حاصل کیا جا سکتا ہے تو یہ تین چیزیں جن کی طرف اس آیت میں ہمیں متوجہ کیا گیا ہے ہرسہ کے ساتھ دعا لگی ہوئی ہے ھدی للناس والے حصہ کے ساتھ بھی ، بینات کے حصہ کے ساتھ بھی، اور فرقان کے حصہ کے ساتھ بھی اسی وجہ سے اکا بر مسلمان رمضان کے مہینہ میں ہمیشہ دعاؤں پر بڑا زور دیتے رہے ہیں۔خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۳۹۸ تا ۴۰۲) قرآن کریم کا ماہ رمضان سے بڑا گہرا تعلق ہے اور ماہ رمضان ہمیں ایک موقعہ عطا کرتا ہے کہ ہم قرآن کریم کی ان تین اصولی برکات سے زیادہ سے زیادہ حصہ لے سکیں استفادہ کر سکیں جو اس آیہ کریمہ میں بیان ہوئی ہیں۔کثرت تلاوت (هُدًى لِلنَّاسِ ) قرآنی تعلیم اور شریعت کے احکام سامنے لائے گی اور انسان کا ذہن انہیں یادر کھے گا کثرت فکر و تدبر اور دعاؤں کی کثرت اور عاجزی اور انکساری کا