انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 239
۲۳۹ سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث مدارج میں سے گزرا ہے اُسے تاریخ کے مختلف مراحل میں مختلف قسم کی ہدایتوں کی ضرورت تھی وہ اسے دے دی گئیں اور اب اُسے ایک کامل ہدایت خدا تعالیٰ کی طرف سے ملی ہے۔اس ہدایت پر چلنے کیلئے ، اس کو اپنانے کے لئے اس کی روشنی میں یہ حصہ رسدی اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر کامل بننے کے لئے یعنی اپنی اپنی استطاعت کے مطابق مظہر صفات باری بننے کے لئے اللہ تعالیٰ کے فیض کی ضرورت ہے دراصل انسان کا روحانی قویٰ کا مالک بن جانا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر جو قومی پیدا کئے ہیں اُن کی کمال نشو و نما کے لئے صرف آسمانی ہدایتوں کا نازل ہونا ہی کافی نہیں ہے۔انسان اُن سے اس وقت تک فائدہ نہیں اُٹھا سکتا جب تک خدا تعالیٰ کا فضل اس کے شاملِ حال نہ ہو اور اللہ تعالیٰ کے فضل کو انسان دعاؤں کے ذریعہ جذب کر سکتا ہے۔۔۔۔۔غرض تخلیق کائنات میں اللہ تعالیٰ کا یہی مقصد ہے جس کے پیش نظر اُس نے انسان کو دُنیا میں پیدا کیا۔اس کی قوتوں کی کمال نشو و نما کے لئے زمین و آسمان پیدا کئے۔آسمان سے ہدایت نازل فرمائی۔زبان حال کی دعائیں قبول ہوئیں اور اس رنگ میں پوری ہو ئیں کہ انسانی زندگی کے ہر زمانے اور ہر مرحلہ پر یہ بات واضح اور عیاں ہوگئی کہ یہ قرآن کریم ہی جو انسان کو دینی اور دنیوی ہر دو اعتبار سے صحیح اور حقیقی راہ عمل دکھاتا ہے۔غرض یہ کہ جب انسان کو روحانی قومی بھی مل گئے اور ایک کامل آسمانی ہدایت بھی مل گئی تو اُسے اپنی زبان سے یہ دعا بھی کرنی پڑے گی کہ اے خدا ہمیں صراط مستقیم بھی عطا فرما اور اس پر چلنے کی توفیق بھی بخش ہمیں اپنی صفات کا عرفان بھی عطا فرما اور ہمارے لئے الہی صفات کا مظہر بننے کے سامان بھی پیدا کر۔ایسی دعا اور التجا ایک ایسی ہستی ہی سے کی جاسکتی ہے جس کے متعلق یہ یقین ہو کہ وہ قریب اور مجیب الدعوات ہے۔چنانچہ یہ بزرگ و برتر ہستی اللہ تعالی ہی کی ہے جس نے قرآن کریم میں فرمایا: وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِى عَنِى فَإِنِّي قَرِيبٌ ُأجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں لفظ عبد قابل ذکر ہے چنانچہ انسان کی پچھلی تاریخ پر جب ہم غور کرتے ہیں تو تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کے بہت قریب ہے اور وہی تاریخ روحانی طور پر بھی اللہ تعالیٰ کے فرمان اور انسانی فطرت کے مطابق بھی اور پھر عقلاً بھی یہ بتاتی ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو اپنا عبد بننے کے لئے پیدا کیا ہے اور اس کے لئے دُعا کی ضرورت ہے۔(خطبات ناصر جلد چہارم صفحه ۴۵۰ تا ۴۶۰) و دو