انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 240 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 240

تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۴۰ سورة البقرة اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ یہ بیان فرماتا ہے کہ قرآن کریم ایک عظیم کتاب ہے یہ ھدی ہے یعنی احکام شریعت پر مشتمل نازل کی گئی ہے ہدایت کے معنی اس آسمانی شریعت کے ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اپنے کسی محبوب نبی اور رسول کے ذریعہ دنیا میں نازل کرتا ہے تاکہ وہ اپنی استعداد کے مطابق اس کی طرف رجوع کر سکیں اور اس کے انعامات کو حاصل کر سکیں اور اس کا قرب پاسکیں۔اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ بیان فرمایا ہے یہ ایک ایسی شریعت آسمانی ہے کہ للناس جس کا تعلق کسی ایک قوم یا کسی ایک ملک یا کسی ایک زمانہ کے ساتھ نہیں ہر زمان و مکان میں بسنے والے انسانوں سے اس کا تعلق ہے یہ ان کے لئے ایک کامل اور مکمل شریعت ہے اور ہدایت کے دوسرے معانی کی رو سے اللہ تعالیٰ یہاں یہ بھی بیان فرماتا ہے کہ یہ ایک ایسی شریعت ہے کہ جو شخص ابتدا میں بعض باتوں کو سمجھتے ہوئے اس پر ایمان لاتا ہے اور اپنی سمجھ کے مطابق اس پر عمل کرتا ہے یہ کتاب اس کے دل پر مزید روحانی ترقی کا شوق پیدا کرتی ہے اور مزید روحانی ترقی کی تڑپ کو پورا کرنے کے سامان بھی اس میں پائے جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہر وقت ایسے انسان کے ساتھ رہتا ہے اور اس کی روحانی راہ نمائی کرتے ہوئے بلند سے بلند مقام تک اسے پہنچاتا چلا جاتا ہے اور ایسے انسان کا اللہ تعالیٰ کے فضل سے انجام بخیر ہو جاتا ہے اور وہ اس کی رضا کی جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔پھر فرمایا کہ یہ صرف ھدی للناس ہی نہیں بلکہ بنتِ مِنَ الْهُدی بھی ہے۔واضح دلائل اور حکمتیں بتا کر اپنی شریعت ( اپنے احکام کو ) منوانے والی کتاب ہے دنیا میں بہت سے لوگ تو ایسے ہوتے ہیں جو دین العجائز کو اختیار کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمتوں سے حصہ وافر پاتے ہیں لیکن بہت سے ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے عقل اور فراست دی ہوتی ہے فکر اور تدبر کے وہ عادی ہوتے ہیں اگر ان لوگوں کی تسلی کا سامان بھی اس کتاب میں نہ ہوتا۔تو وہ ٹھوکر کھا جاتے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے ایسے ذہنوں کی ترقی کا سامان بھی اس میں کر دیا ہے یہ کتاب حکمت اور دلائل کے ساتھ اپنے احکام کو منواتی ہے اور یہ کتاب ایسی ہے جو فرقان ہے یعنی حق اور باطل میں تمیز کرنے والی ہے (جہاں تک اعتقادات کا سوال ہے ) اور عمل صالح اور ایسے عمل کے مابین جو فساد سے پر ہو امتیاز کرنے والی ہے۔اس کی تعلیم ہمیں بتا دیتی ہے کہ یہ اعمال ایسے ہیں جو خدا تعالیٰ کو محبوب ہیں اور یہ ایسے ہیں جن میں فساد پایا جاتا ہے اور فساد کو پسند کرنے والا اور فساد سے