انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 238 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 238

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۳۸ سورة البقرة ہدایت کی نئی اور پر حکمت باتیں بتائی گئیں یعنی وہ ہدایتیں جو مجملا پہلوں کو دی گئی تھیں وہ تفصیل کے ساتھ سید نا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعہ بنی نوع انسان کو بتادی گئیں۔پھر قرآن کریم کی تیسری خوبی یہ ہے کہ یہ فرقان ہے۔قرآن کریم نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ قریہ قریہ اور ملک ملک خدا کے رسول آئے۔اللہ تعالیٰ نے اُن کی ضرورتوں اور طاقتوں کے لحاظ سے انہیں آسمانی ہدایت عطا فرمائی۔چنانچہ پہلے زمانہ میں رسولوں کی کثرت جہاں اللہ تعالیٰ کے قرب پر دلالت کرتی ہے۔وہاں ضرورتوں اور استعدادوں میں اختلاف بھی ظاہر کرتی ہے ہر علاقہ بلکہ بعض دفعہ تو قریب کے دو شہروں کی ضرورت کے اختلاف کو مد نظر رکھتے ہوئے رسول مبعوث ہوئے تا کہ خدا کی آواز ہر جگہ پہنچ جائے۔یہ کام ایک عظیم اور قریب ہستی ہی کر سکتی ہے اور وہی اس کا خیال رکھ سکتی ہے یعنی ہر زمانہ میں ہر علاقہ کی روحانی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے خدا تعالیٰ کا انبیاء کو بھیجنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نظر اور اس کا علم زمان و مکان کی وسعتوں پر محیط ہے۔پس پہلے زمانہ میں انبیاء علیہم السلام نے اپنے اپنے ملک اور علاقہ کے حالات کے لحاظ سے اور اپنے قومی کی نشوونما اور اس کے استحقاق کے لحاظ سے جن چیزوں کو حاصل کیا ، اُن میں اختلاف پایا جاتا تھا۔چنانچہ بنی اسرائیل کے رسولوں کو جس ہدایت کی ضرورت تھی وہ اُن کو دی گئی۔ہندوستان اور چین میں بسنے والوں کو جس ہدایت کی ضرورت تھی وہ ان کو دی گئی۔ہر دو قسم کی ہدایت خدا کے رسول لے کر آئے مگر ان دونوں میں اختلاف پایا جاتا ہے۔مذہبی دُنیا میں دوسرا اختلاف ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک ہدایت نازل ہوئی۔اس کے ماننے والے مختلف الخیال ہو گئے ہر ایک گروہ نے اپنے مطلب کا ایک حصہ لے لیا اور اس پر فخر کرنے لگ گئے یعنی ایک ہی نبی کی امت جب بعد میں بگڑی تو اس نے آپس میں اختلاف کیا اور لوگ مختلف گروہوں میں بٹ گئے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا قرآن کریم تمہارے لئے فرقان بن کر آیا ہے۔وہ تمام مذہبی اختلافات خواہ پہلی قسم سے تعلق رکھتے ہوں یا دوسری قسم سے تعلق رکھتے ہوں یہ اُن کو دور کرنے والا ہے۔کیونکہ یہ فرقان ہے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے دراصل عبد کا لفظ اس آیت کے مفہوم کے سمجھنے کی کنجی ہے۔اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر بننے کے لئے جس قسم کی ہدایت کی ضرورت تھی وہ ہدایت دے دی گئی یعنی انسان مختلف