انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 221
تغییر حضرت خلیفہ المسح الثالث الثالثة ۲۲۱ سورة البقرة ہیں غلبہ اسلام کے لئے یہ حربہ ہاتھ میں لو اس کام کے لئے ہم پیدا کئے گئے ہیں۔قرآن کریم کا حربہ ہاتھ میں لو اللہ تعالیٰ تمہیں تمام ادیان باطلہ پر غالب کر دے گا کیونکہ یہ فرقان بھی ہے نا۔وَ إِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِى جو لوگ اللہ ( سید نا حضرت اقدس علیہ السلام کا ترجمہ ہے بعض لفظی تبدیلیوں کے ساتھ ) اور اس کے رسول محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے ہیں یہ پوچھنا چاہیں اگر کہ خدا تعالیٰ ہم سے کیا عنایات رکھتا ہے جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والوں سے، جو ہم سے مخصوص ہوں اور غیروں میں نہ پائی جاتی ہوں۔( وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِی کے یہ معنی آپ نے کئے ہیں ) تو ان کو کہہ دے میں نزدیک ہوں یعنی تم میں اور تمہارے غیروں میں یہ فرق ہے کہ تم میرے مخصوص اور قریب ہو اور دوسرے مہجور اور دُور ہیں۔جب کوئی دعا کرنے والوں میں سے جو تم میں سے دعا کرے، دعا کرتے ہیں تو میں اس کا جواب دیتا ہوں یعنی میں اس کا ہم کلام ہو جاتا ہوں اور اس سے باتیں کرتا ہوں اور اس کی دعا کو پایہ قبولیت میں جگہ دیتا ہوں۔(خطبات ناصر جلد نم صفحه ۱۵۹ تا ۱۶۷) ان دو آیات میں جو میں نے ابھی تلاوت کی ہیں اللہ تعالیٰ نے رمضان کے روزے رکھنے کے فوائد اور جن طریقوں سے وہ فوائد حاصل کئے جاسکتے ہیں ان کے متعلق ہمیں ایک حسین رنگ میں تو دی ہے۔تعدی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے شَهْرُ رَمَضَانَ اس مہینے کا نام اسلام سے قبل ناتق تھا اسلام نے اس مہینے کو رمضان کا نام دیا ہے اور اس نام کے اندر اتنے وسیع معانی ہمیں نظر آتے ہیں کہ دل انہیں معلوم کر کے خدا تعالیٰ کے کمال قدرت کو دیکھ کر اس کی حمد کے جذبہ سے بھر جاتا ہے۔رمضان کا لفظ رمض سے نکلا ہے اور جب ہم رمض کے مختلف معانی پر غور کرتے ہیں تو اس کے بہت سے معنی ایسے ہیں جن کا ماہ رمضان سے تعلق واضح ہو جاتا ہے۔چنانچہ جب عربی میں ارمَضَ الشيئ کہا جائے تو اس کے معنی ہوتے ہیں اخرقۂ اسے جلا دیا۔اس لفظ میں سوزش کا تصور پایا جاتا ہے۔اگر کہا جائے آرمضَ الرّجُلَ تو اس کے معنی ہوتے ہیں اَو جَعَہ اس کو دکھ پہنچایا۔تکلیف دی۔جب ہم ان دو معانی پر غور کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ان کا ماہ رمضان سے تعلق ہے۔اس طرح پر کہ وہ لوگ جو دین اسلام کے منکر ہیں یا اسلام میں تو داخل ہیں لیکن ان کے اندر روحانی