انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 222 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 222

۲۲۲ سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث کمزوری ہے۔وہ اس مہینہ کو محض دکھ اور درد ، بھوک اور پیاس اور بے خوابی کا مہینہ سمجھتے ہیں۔انہیں اس میں کوئی فائدہ نظر نہیں آتا اور نہ ہی اس کی برکات سے وہ کوئی حصہ لیتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ کے جو نیک اور مومن بندے ہیں وہ اس مہینہ کی تکلیف کو تکلیف نہیں سمجھتے۔رَمَضَ النَّصْل کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ تیر کے پھل کو ، یا نیزے کے پھل کو یا چھری کے پھل کو پتھر پر رگڑ کر تیز کیا۔مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے مومن بندے اس مہینہ کے اندر اپنے سہام اللیل یعنی رات کے تیروں کو جو دعاؤں کی صورت میں آسمان کی طرف چلا رہے ہوتے ہیں تیز کرتے ہیں اس طرح ان تیروں کا اثر اس ماہ میں بڑھ جاتا ہے۔اور ان کی کاٹ تیز ہو جاتی ہے۔اور جن اغراض کیلئے ان تیروں کو استعمال کیا جاتا ہے وہ اغراض اس ماہ میں بطریق احسن حاصل ہو جاتی ہیں۔پھر لغت میں ترمَّضَ الصَّيْدَ کا محاورہ بھی لکھا ہے۔یعنی جنونی شکاری شدت گرما کی پرواہ نہ کرتے ہوئے۔گرمی کے وقت اپنے شکار کی تلاش میں نکلا۔گویا اللہ تعالی کا مومن بندہ بھوک اور پیاس اور دوسری سختیوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنے مطلوب کی تلاش میں نکلتا ہے۔گرمی کی شدت یا تکلیف، یا بھوک اور پیاس، یا بے خوابی وغیرہ اس کے راستہ میں روک نہیں بن سکتیں۔اور وہ جو کچھ تلاش کرتا ہے اس کا مفہوم بھی ہمیں اسی لفظ سے ہی سمجھ میں آ سکتا ہے کہ اس کا مطلوب ہرن اور تیتر کا شکار نہیں ہوتا چنانچہ الرّمضُ کے ایک اور معنی عربی میں الْمَطْرُ يَأْتِ قَبْلَ الخَرِيفِ فَيَجِدُ الْأَرْضُ حَارَّةً مُختَرِقَةٌ (اقرب ) ہیں یعنی وہ بارش جو گرمی کی شدت کے بعد اور موسم خزاں سے پہلے آسمان سے نازل ہوتی ہے۔اور جب وہ نازل ہوتی ہے تو زمین پوری طرح تپی ہوئی اور جلی ہوئی ہوتی ہے لیکن جب وہ بارش نازل ہوتی ہے تو اس تپش کو دور کر دیتی ہے۔اس جلن کو مٹا دیتی ہے اور سکون کے حالات پیدا کر دیتی ہے۔تو یہاں سے واضح ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ کا ایک مومن بندہ رمضان کے مہینے میں جنونی شکاری کی طرح بھوک اور پیاس اور دوسری تکالیف کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنے جس مطلوب کی تلاش میں نکلتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی بارش ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ اس رحمت کی بارش کے بغیر میرے دل کی جلن دور نہیں ہوسکتی میرے اندر جو آگ لگی ہوئی ہے وہ بجھ نہیں سکتی جب تک کہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کی