انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 220
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث سورة البقرة کی آیات اور وہ دعائیں ہیں جو مروی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے اور ایک وہ دعائیں ہیں اور یہ یا درکھو اس میں بھی بدعت پیدا ہو گئی۔اللہ تعالیٰ نے یہ اجازت دی ہے بلکہ پسند کیا ہے کہ تم مسنون دعاؤں کے علاوہ اپنی زبان میں خدا تعالیٰ کے حضور دعائیں کرو اور اس سے ما نگو نماز کے اندر۔سید نا حضرت اقدس علیہ السلام فرماتے ہیں کہ نماز جو ہے صلوۃ ، یہ تزکیہ نفس کرتی ہے اور تزکیہ نفس ( آپ فرماتے ہیں ) یہ ہے کہ نفس اتارہ کی شہوات سے بعد حاصل ہوتا ہے یعنی اہوائے نفس جو ہیں نفسانی خواہشات جو ہیں ان سے انسان بچتا ہے۔إِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ (العنكبوت:۴۶) اور جو روزہ ہے یہ محلی قلب کرتا ہے اور اس کے معنی یہ ہیں ( حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو کئے ) کہ کشف کا دروازہ کھلتا ہے اور دیدار الہی کے سامان پیدا ہوتے ہیں۔تو کتنی عظمت ہے ماہ رمضان میں کہ اگر نیک نیتی سے مقبول روزے رکھ لو گے تو دیدار الہی کے سامان پیدا کئے جائیں گے اور قرب کی راہیں جو ہیں وہ کشادہ کی جائیں گی تمہارے لئے۔بارہویں بات اُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ اس طرف اشارہ کر رہی ہے کہ قرآن کریم کی کثرت سے تلاوت اس مہینے میں کی جائے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی یہی سنت تھی اور جیسا کہ میں نے بتایا حضرت جبرائیل علیہ السلام ماہ رمضان میں دور کیا کرتے تھے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا حضرت اقدس علیہ السلام فرماتے ہیں۔اس وقت اسلام کی عزت بچانے کے لئے اور بطلان کا استیصال کرنے کے لئے صرف 66 یہی کتاب پڑھنے کے قابل ہے اس واسطے میں کہتا ہوں جماعت کو کہ آپ کثرت سے قرآن کریم پڑھیں خصوصا رمضان کے مہینے میں بہت زیادہ زور تلاوت قرآن کریم کے اوپر ڈالیں۔ایک محدث یا فقیہ تھے ( مجھے یاد نہیں رہا امام بخاری تھے یا دوسرے ) ان کے متعلق آتا ہے کہ رمضان کا جب مہینہ شروع ہوتا تھا تو ساری کتابیں بند کر کے رکھ دیتے تھے اور صرف قرآن کو پکڑ لیتے تھے ، سارے رمضان میں سوائے قرآن کریم کے اور کچھ نہیں پڑھتے تھے آپ فرماتے ہیں۔اس نور کے آگے کوئی ظلمت ٹھہر نہیں سکتی“ آپ فرماتے