انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 203
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث سورة البقرة کامل کے مطابق ابتدائے پیدائش سے ہی الکتاب قرآن کریم کو ربانی ہدایت مقرر فرمایا ہے بے شک حضرت آدم کے زمانہ سے ہی انبیاء پیدا ہوتے رہے جو انسان کو درجہ بدرجہ پست مقامات سے اُٹھا کر بلند مقامات کی طرف لے جاتے رہے لیکن ان کو جو کچھ بطور شریعت کے ملا وہ کامل اور مکمل شریعت نہ تھی بلکہ نَصِيبًا مِنَ الكتب ( النساء :۵۲) ای کامل کتاب کا ایک حصہ تھا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں عطا ہوا تھا۔اصل کتاب، اصل شریعت اور ہدایت جو اللہ تعالیٰ کے علم کامل میں ہے وہ قرآن کریم میں ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کامل نیک جو حقوق اللہ اور حقوق العباد کو صحیح طور پر بجالاتا ہے اور اپنے رب کی کامل فرمانبرداری اور اطاعت کرتا ہے۔وہ ہے جو الکتاب پر ایمان لاتا ہے۔یعنی قرآن کریم کو اس کا حق دیتا ہے اور اس کی قدر کرتا ہے جیسے کہ واقعی قدر کرنی چاہیے کیونکہ یہی وہ کامل کتاب ہے جس کے بعض حصوں نے آدم علیہ السلام کی تربیت کی، بعض حصوں نے نوح علیہ السلام کی تربیت کی ، ان کے بعد موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کی تربیت کی اور آخر میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی اصلی اور حقیقی اور کامل اور مکمل شکل میں نازل ہوئی۔پس کامل تربیت پانے والے صرف حامل قرآن ہی ہیں۔والتبيين وہ شخص تمام انبیاء اللہ پر بھی ایمان لاتا ہے۔ایمان بالنبوۃ کے لئے بھی کامل فرمانبرداری کی ضرورت ہے حتی کہ اس کے اپنے نفس کا کچھ بھی باقی نہ رہے اور انسان اپنا سب کچھ اپنے رب کی راہ میں قربان کرنے کیلئے تیار ہو جائے اپنی عزت بھی، اپنی روایات بھی، اپنے تو ہمات اور خوش اعتقادیاں بھی۔۔۔۔۔۔آگے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَ أَتَى الْمَالَ عَلَى حُبّهِ ذَوِى الْقُرْبَى وَالْيَتَى وَالْمَسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّابِلِينَ وَ فِی الرِّقَابِ کہ وہ اپنا مال دیتا ہے۔رشتہ داروں کو ، بیتامی ، مسکینوں اور مسافروں کو اور مانگنے والوں کو اور غلاموں کے آزاد کرانے کے لئے بھی۔لیکن یہ نیکی نہیں جب تک على حبه نہ ہو۔یہ خرچ مومن بھی کرتا ہے اور کافر بھی کرتا ہے کیونکہ بہت سے دنیا دار آپ کو نظر آئیں گے۔جو اپنے رشتہ داروں پر اس لئے خرچ کر رہے ہوں گے کہ اس طرح خاندانی اتحاد اور اتفاق قائم رہے گا اور ان کی عزت اور وجاہت قائم رہے گی وہ اپنے خاندان میں بھی بڑے سمجھے جائیں گے اور دنیا بھی ان کو عزت کی نگاہ سے دیکھے گی۔