انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 202
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث سورة البقرة ہیں الطاعَةُ - الصلاح الصدق (المنجد زير لفظ بر) اس لحاظ سے اکبر کے معنی یہاں یہ ہوں گے ہر قسم کے فساد سے پاک ہونا اور ہر قسم کے حقوق اور واجبات پوری اطاعت کے ساتھ ادا کریں۔پس فرمایا حقیقی نیکی یہ نہیں کہ تم نمازوں کی ادائیگی کے وقت مشرق اور مغرب کی طرف منہ کرو۔یا ان بشارات کو مد نظر رکھتے ہوئے جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں قرآن مجید میں دی ہیں کہ مشرق و مغرب کے تمام ممالک پر تمہارا قبضہ ہوگا۔اور وہ اللہ تعالیٰ کے ہو جائیں گے اَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللهِ (البقره: ۱۱۲) کہ جس طرف تم رُخ کرو گے اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت اور اس کے ملائکہ کی فوج کو اپنی امداد کے لئے پاؤ گے۔تو فرمایا ان پیشگوئیوں کو پورا کرنے کے لئے تم مشارق اور مغارب کی طرف نکلو یا عبادت کی غرض سے تم مشرق یا مغرب کی طرف منہ کرو تو محض یہ بات وہ نیکی نہیں جس کا تمہارا رب تم سے تقاضا کرتا ہے۔فرمایا وَلكِنَّ الْبِرِّ (اور یہاں البر کا لفظ دوسرے معنی میں استعمال ہوا ہے۔( مَنْ آمَنَ بِاللهِ کہ ہر قسم کے مفاد سے پاک اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کو پوری اطاعت اور فرمانبرداری سے ادا کرنے والا وہ ہے جو ایمان باللہ کے تمام تقاضوں کو پورا کرنے والا ہو۔یعنی علی وجہ البصیرۃ خدا تعالیٰ کی وحدانیت پر یقین رکھتا ہو۔اور اس کی ذات اور صفات میں کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراتا ہو اور یقین رکھتا ہو کہ صحیفہ فطرت صحیحہ انسانیہ پر اس کی صفات کا انعکاس ہے اور تَخَلَّقُوا بِأَخْلاقِ اللہ ہی سب نیکی ہے اور أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَلَمِينَ (البقرة : ۱۳۲) کا نعرہ لگاتے ہوئے فنا فی اللہ کے سمندر میں اپنی ذات کو غرق کر دینا ہی سچی اور صحیح اور حقیقی اطاعت ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے یہاں نیکی کی اصل صفت کی طرف اشارہ کیا ہے اور وہ ہے مَنْ آمَنَ بِاللهِ یعنی نیک وہ ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ خدا تعالیٰ ہے اور کہ وہ واحد یگانہ ہے کوئی اس کا شریک نہیں اور وہ یقین رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ کہ اس زندگی کے ساتھ تمہاری حیات ختم نہیں بلکہ حشر کے روز پھر تمہیں اکٹھا کیا جائے گا ضرور پورا ہوگا اور اس روز ہم اپنے اعمال کو اپنے سامنے موجود پائیں گے اور وہ بھی یقین رکھتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ملائکہ کو اس کا رخانہ علت و معلول میں آخری مخلوق علت قرار دیا ہے اور اپنے اور مخلوق کے درمیان بطور واسطہ کے قائم کیا ہے اور وہ یہ بھی ایمان لاتا ہے کہ چونکہ خدا تعالیٰ عَلَامُ الْغُيُوبِ ہے اور انسان کی انفرادی نشو ونما اور ارتقاء اور انسان کی اجتماعی نشو ونما اور ارتقاء ایک خاص الہی منصوبہ کے ماتحت ہی ہے۔اس لئے اس نے اپنے علم