انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 183
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۱۸۳ سورة البقرة دو تیری قدرتوں کا مظاہرہ حکمت کی بنیاد پر ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے جو دعا حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کروائی اسے قبول بھی کرنا تھا اور قبول کیا اور اس کا اعلان قرآن کریم میں کیا گیا ، سورۃ جمعہ میں کہ وہی خدا ہے جس نے ایک ان پڑھ قوم کی طرف اسی قوم میں سے ایک شخص کو رسول بنا کر بھیجا جو اُن کو خدا کی آیات سناتا ہے اور اُن کو پاک کرتا ہے اور اُن کو کتاب اور حکمت سکھاتا ہے الفاظ کی ترتیب ان دو آیات میں بدلی ہوئی ہے اور جس میں حکمت ہے کیونکہ قرآن کریم ، قرآن حکیم ہے حکمت بتاتا اور دلیل دیتا ہے۔جو قبولیت دعائے ابراہیم کا اعلان ہے اور جس آیت میں یہ اعلان کیا گیا ہے اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ الأقمان میں بھی انہیں میں سے ایک شخص کو اللہ تعالیٰ نے عظیم آیات دے کر مبعوث کیا ويزكيهم تا کہ وہ ان آیات کے نتیجہ میں حصول تزکیہ نفس کی راہ پر چلنا شروع کر دیں۔وَيُعَلِّمُهُمُ الكتب اور تزکیہ نفس کرتے ہوئے جو عظیم شریعت قرآن کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے ذریعہ سے اس قوم کو دی گئی ہے اُس کا علم زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے لگیں اور اس کی حکمتیں سیکھنے لگیں اس آیت میں اس طرف بھی اشارہ کیا گیا کہ نشانات کے ذریعے قبول ہدایت کا سامان پیدا ہوا اور ایک حد تک تزکیہ ہو گیا لیکن قرآن کریم ایک ایسی کتاب ہے لَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعة :۸۰) کہ اس کے علوم حقیقی حقیقی طور پر وہی سیکھ سکتے اورسمجھ سکتے ہیں جن کے اندر تزکیہ نفس پایا جائے تو آیات کے نتیجہ میں ایک حد تک تزکیہ نفس پیدا ہو گیا اور تزکیہ نفس کے نتیجہ میں قرآنی علوم پہلے سے زیادہ انہیں ا حاصل ہوئے اور قرآنی آیات اور تعلیم کی حکمتیں پہلے سے زیادہ ان کی سمجھ اور فراست اور عقل میں آئیں جس کے نتیجہ میں ان کا تزکیہ ترقی کر گیا اور اس راہ پر وہ آگے بڑھ گئے مزید تزکیہ کے حصول کے بعد انہیں قرآن کریم کے چھپے ہوئے مزید بطون حاصل ہوئے حکمتیں انہوں نے پائیں اور تزکیہ نفس اور آگے بڑھ گیا زیادہ طہارت اور پاکیزگی انہیں حاصل ہوئی اور اس کے نتیجہ میں قرآنی علوم اور زیادہ انہیں ملے اور کیونکہ قرآن کریم کے علوم غیر محدود ہیں اس لئے اُمت محمدیہ کے لئے غیر محدود ترقیات اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے حصول کی راہیں کھول دی گئیں۔(خطابات ناصر جلد دوم صفحہ ۵۱۳ و ۵۱۴)