انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 182 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 182

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۱۸۲ سورة البقرة نہیں تو پھر انسان کو تو تبھی پتا لگے گا، جب خدا بتائے گا کسی استاد سے اس کی سند نہیں لے سکتے قرآن کہتا ہے نہیں نہیں هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقی اللہ کو پتا ہے یہ بھی استاد کو نہیں پتا کسی مجسٹریٹ سے لے کے جاکے کوئی پرانا کا غذ جو ہے اس کی تصدیق اور ثبوت مہیا نہیں کیا جاسکتا ہے اس کے سامنے، گواہوں کے ساتھ ، کیونکہ گواہ بھی نہیں دے سکتے کہ کیا بات ہے اسلام نے یہ اعلان کیا ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ کی راہ میں پاک اور متقی ہوگا خدا تعالیٰ خود اس کے متقی اور پاک ہونے پر گواہی دے گا اللہ تعالی نے قرآن کریم میں متعدد مقامات پر بتایا ہے کہ جو میری نگاہ میں پاک اور مطہر ہوں میں ان کے ساتھ اس قسم کا سلوک کرتا ہوں۔ایک جگہ فرمایا إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ( حم السجدة : ۳۱) جنہوں نے کہا کہ رب حقیقی ہمارا اللہ تعالیٰ ہے ہم ہر قسم کی ربوبیت اور نشوونما کے لئے اس کے محتاج ہیں اسی سے مانگیں گے اسی سے لیں گے وہ دے گا تو ہماری نشو و نما ہوگی ورنہ نہیں ہوگی ثُمَّ اسْتَقَامُوا پھر وہ اپنے ا اس عہد پر سختی سے قائم رہتے ہیں استقامت سے قائم رہتے ہیں تتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَيكَةُ اَلا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کو ان کے پاس بھیجتا ہے انہیں تسلی دیتا ہے خوف کے اوقات میں، ان کو نسلی دیتا ہے جس وقت کوئی کوتاہی اور غفلت ہو جائے اور وہ بے چین ہوکر خدا سے تو بہ اور استغفار کرتے ہیں اور نہیں جانتے کہ ان کی تو بہ اور استغفار قبول بھی ہوئی ہے یا نہیں اور بے چینی میں ان کے اوقات گزر رہے ہوتے ہیں آسمان کے فرشتے نازل ہوتے ہیں اور کہتے ہیں لا تَحْزَنُوا غم نہ کرو خدا نے تمہیں معاف کر دیا۔آسمانی نشانوں کے ساتھ وہ ان کی پاکیزگی کو ظاہر کرتا ہے اس نے قرآن کریم کی عظمت اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جلال کو ثابت کرنے کے لئے قرآن کریم میں یہ اعلان کیا تھا لا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ ( الواقعة: ۸۰) که قرآن کریم کا فہم وہی شخص حاصل کر سکتا ہے جو پاک اور مطہر ہو کیونکہ یہ پاک کا کلام ہے اور پاک کے سینے میں ہی یہ نور پیدا کر سکتا ہے۔خطابات ناصر جلد دوم صفحه ۴۳۰ تا ۴۵۳) حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ایک الہامی دعا سکھائی گئی اور آپ نے وہ دعا خود بھی کی اور اپنی نسل سے بھی کروائی۔جو یہ تھی کہ اے ہمارے ربّ! انہی میں سے ایک ایسا رسول مبعوث فرما جو انہیں تیری آیات پڑھ کر سنائے اور انہیں کتاب سکھائے اور حکمت اور دلائل سکھائے اور انہیں پاک کرے یقینا تو ہی غالب ہے اور