انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 184
تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث ۱۸۴ سورة البقرة آیت ۱۵۱، ۱۵۲ وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ۔وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَةَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَيْكُم حُجَّةُ إِلَّا الَّذِينَ ظَلَبُوا مِنْهُمْ فَلَا تَخْشَوهُمْ وَاخْشَونِي وَلِأَئِمَّ نِعْمَتِي عَلَيْكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ كَمَا اَرْسَلْنَا فِيكُمْ رَسُولًا مِنْكُمْ يَتْلُوا (۱۵۱ ق عليكم ايتِنَا وَيُزَرِّيكُمُ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتب وَالْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُم مَّا لَم (۱۵۲ b تَكُونُوا تَعْلَمُونَ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم جہاں کہیں بھی ہو۔تمہیں اپنی زندگی کا یہ مقصد کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ تمہاری بہتری کے تمام سامان اور تمہارے مقاصد کی یاد دہانی کرانے والی ساری علامتیں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مسجد حرام یعنی بیت اللہ سے تعلق رکھتی ہیں۔کچھ عرصہ ہوا میں نے بیت اللہ پر متواتر کئی خطبات دیئے تھے جو چھپ چکے ہیں۔ان خطبات میں میں نے بتایا تھا ( اور جن کے بتانے کا مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اذن ملا تھا) کہ مسجد حرام کے ساتھ سیکس مقاصد وابستہ ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مکان کے لحاظ سے یا زمان کے لحاظ سے دونوں پہلو اس کے اندر آتے ہیں) تمہیں اپنی وجہ یعنی تو جہ کو مسجد حرام کی طرف رکھنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایک دوسری جگہ فرمایا: وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَللِ وَالْإِكْرَامِ (الرحمن: ۲۸) اس کے معنے کرتے ہوئے امام راغب نے مفردات میں لکھا ہے۔جو باقی رہنے والی چیز ہے وہ ایسے اعمال صالحہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے کئے جاتے ہیں۔یعنی وہ اعمال صالحہ جنہیں انسان اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی خاطر بجالاتا ہے وہ گویا وَجهُ رَيْكَ کے مترادف ہیں اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے جو کوشش کی جاتی ہے۔وہ قائم رہتی ہے اور باقی تو ہر عمل ضائع ہو جاتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ایک اور جگہ فرماتا ہے : كلُّ شَيْءٍ هَالِكُ إِلَّا وَجْهَهُ (القصص : ٨٩) امام راغب نے اس آیت کے یہ معنی کئے ہیں کہ حل تمنی ءٍ مِنْ أَعْمَالِ الْعِبَادِ هَالِكَ وَبَاطِلُ إِلَّا