انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 164 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 164

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۱۶۴ سورة البقرة ط آیت ۱۲۶ تا ۱۳۰ وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِلنَّاسِ وَآمَنَّا وَاتَّخِذُوا مِنْ مَّقَامِ إِبْرَاهِمَ مُصَلَّى ، وَعَهِدْنَا إِلَى إِبْراهِمَ وَ اِسْعِيلَ أَن طَهَّرَا بَيْتِيَ لِلطَّابِفِينَ وَالْعَكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ وَ اِذْ قَالَ إِبْرَاهِم رَبِّ اجْعَلْ هذا بَلَدًا مِنَّا وَارْزُقُ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَاتِ مَنْ آمَنَ مِنْهُم بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ قَالَ وَ مَنْ كَفَرَ فَأَمَتِّعُهُ قَلِيلًا ثُمَّ اَضْطَرُّةٌ إِلى عَذَابِ النَّارِ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ وَاذْيَرْفَعُ إِبْرَاهِمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَاِسْعِيلُ ، رَبَّنَا تَقَبَّلُ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ۔رَبَّنَا وَ اجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُّسْلِمَةً لَكَ وَ اَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَ تُبْ عَلَيْنَا ۚ إِنَّكَ أَنْتَ التّوابُ الرَّحِيمُ۔رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيْتِكَ وَ b (۱۲۹) ص b (١٣٠ يُعلِمُهُمُ الكتب وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمُ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ۔آٹھویں غرض یا آٹھواں مقصد بیت اللہ کی تعمیر کا یہ بتایا کہ یہ مقابةٌ ہے۔اس لفظ میں یہ اشارہ پایا جاتا ہے کہ دنیا کی اقوام فرقہ فرقہ بن گئی ہیں اور جس وقت یہ فرقہ بندی اپنی انتہا کو پہنچ جائے گی اس وقت ایک ایسا رسول مبعوث کیا جائے گا جو بیت اللہ کی اس غرض کو پورا کرنے والا ہو گا اور ان متفرق اقوام کو ایک مرکز پر لا جمع کرے گا۔وہ سب کو علی دینین واحد لے آئے گا۔پس یہاں بتایا کہ باوجود اس کے کہ تفرقہ ایک وقت پر اپنی انتہا کو پہنچ جائے گا اللہ تعالیٰ کا منشاء یہ ہے کہ اس وقت ایک ایسے رسول کو مبعوث فرمائے جو تمام اقوام کو اُمَّةً واحدةً بنادے۔نواں مقصد یہاں یہ بیان کیا کہ آمنا یعنی یہ گھر جو ہے یہ آمنا لِلنَّاسِ ہے۔یہاں اس کے یہ معنی ہیں کہ ہم نے اپنے اس گھر کو ایسا بنانا چاہا ہے کہ اس کے ذریعہ اور صرف اس کے ذریعہ دنیا کو امن نصیب ہوگا کیونکہ صرف یہ ایک گھر ہو گا جسے بیت اللہ کہا جاسکتا ہے اس کو چھوڑ کر اور ان تعلیموں کو نظر انداز کر کے جن کا تعلق اس گھر سے ہے دنیا کی کوئی تنظیم امن عالم کے لئے کوشش کر کے دیکھ لے وہ کبھی اس میں کامیاب نہیں ہوگی۔حقیقی امن دنیا کو صرف اس وقت اور صرف اسی تعلیم پر عمل کرنے