انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 165
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ܬܪܙ سورة البقرة کے نتیجہ میں مل سکتا ہے جو تعلیم وہ نبی دنیا کے سامنے پیش کرے گا جو خانہ کعبہ سے کھڑا کیا جائے گا۔امن کے ایک دوسرے معنی کے لحاظ سے آمنا للناس کے معنی یہ بھی ہیں کہ دنیا روحانی طور پر اطمینان قلب صرف مکہ معظمہ اور صرف اس آخری شریعت کے ساتھ پختہ تعلق پیدا کرنے کے نتیجہ میں حاصل کر سکے گی جو آخری شریعت مکہ میں ظاہر ہوگی اور تمام اقوام عالم کو پکار رہی ہوگی اپنے ربّ کی طرف اور چونکہ اطمینانِ قلب ہر انسان کو اس وقت حاصل ہوتا ہے جب اس کے فطری تقاضوں کو وہ تعلیم پورا کرنے والی ہو اور اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر جتنی قوتیں اور استعدادیں پیدا کی ہیں ان سب کی راہ نمائی اور نشوونما کرنے کے قابل ہو بس یہاں یہ فرمایا کہ مکہ گھر ہوگا ایک ایسی تعلیم کا جو حقیقی طور پر دنیا کو اطمینانِ قلب پہنچانے والی ہوگی یعنی ہر دو معنی یہاں چسپاں ہوتے ہیں۔ایک تو یہ کہ دنیا کو اگر امن نصیب ہو سکتا ہے تو وہ مکہ کی وساطت سے دوسرے یہ کہ دنیا کی ارواح اگر اطمینان قلب حاصل کر سکتی ہیں۔دنیا کی عقلیں اگر تسلی پاسکتی ہیں تو صرف اس تعلیم کے نتیجہ میں جومکہ میں نازل ہوگی۔دسویں غرض اور دسواں مقصد ان آیات میں خانہ کعبہ کا اللہ تعالیٰ نے یہ بیان کیا ہے۔کہ اتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرهِم مُصلَّی اس سے پہلی ایک آیت میں مَقَامُ البرھم کا ذکر تھا۔اس سے مراد یہ تھی کہ یہ مقام ایسا گھر ہے جہاں بنیاد ڈالی گئی ہے اس حقیقی عبادت کی جو محبت اور ایثار اور عشق الہی کے چشمہ سے بہہ نکلتی ہے اور اتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِمَ مُصَلَّی میں اس عبادت کا ذکر ہے جو تذلل اور انکسار کے منبع سے پھوٹتی ہے۔غرض اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا کہ بیت اللہ کی تعمیر کی ایک غرض یہ ہے کہ ایک ایسی قوم پیدا کی جائے جو تذلل اور انکسار کے ساتھ اپنے رب کی عبادت کرنے والی ہوا اور جو تذلل اور انکسار کی عبادت کے لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مقام کے ظل ساری دنیا میں قائم کرے اور اشاعت اسلام کے مراکز کو قائم کرنے والی ہو۔گیارھویں غرض تعمیر بیت اللہ کی یہ بیان کی گئی ہے کہ ظفرا بنتی اور اس میں ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا منشاء یہ ہے کہ خانہ کعبہ کو ظاہری صفائی اور باطنی طہارت کا سبق سیکھنے کے لئے ساری دنیا کے لئے بطور ایک جامعہ اور یو نیورسٹی اور ایک مرکز کے بنایا جائے۔بارھویں غرض تعمیر کعبہ کی یہ بتائی گئی ہے کہ للطابفین یعنی اقوام عالم کے نمائندے بار بار یہاں