انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 163 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 163

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۱۶۳ سورة البقرة وہ میں تصرف کرنے کی طاقت حاصل ہوتی ہے نہ انہیں جبر و اکراہ کے لئے حکم ہوتا ہے۔پس جب کبھی جہاد کرتے ہیں تو صرف حق کے دفاع کے لئے نہ اس لئے کہ لوگوں کو وہ حق ماننے پر مجبور کریں۔آخری حوالہ بہت پرانی تفسیر کا نہیں بلکہ ماضی قریب کی ہے یہ تفسیر۔تو جیسا کہ پہلے بھی خطبوں میں میں بیان کر چکا ہوں ایک آیت اس مضمون پر روشنی ڈالتی ہے۔ہم سب کو معلوم ہونا چاہیے کہ قرآن کریم کہتا کیا ہے؟ حکم تو شریعت قرآنیہ کا چلے گا اور خدا کہتا ہے کہ میں بھی جبر نہیں کرتا اور میر احمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی جبر نہیں کرتا۔اس آیت کے یہی معنے کئے ہیں ان مفسرین نے کہ خدا نے اس آیت میں فرمایا ہے کہ میں جبر نہیں کرتا۔میر امحمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی جبر نہیں کرتا اور اس وجہ سے وَلَا تُسْتَلُ عَنْ أَصْحَب لجَحِيمِ اگر کوئی انکار کرتا ہے، کوئی نفاق کی راہوں کو اختیار کرتا ہے۔کوئی مرتد ہوجاتا ہے ایمان لانے کے بعد ، کسی پہ جبر کوئی نہیں۔لیکن کام یہ ہے کہ ڈراؤ اُن کو نہیں مانو گے تو خدا تعالیٰ کے غضب کی آگ میں جلو گے۔منافقانہ راہوں کو اختیار کرو گے تو قہر الہی کی وہ تجلی ظاہر ہوگی کہ تمہاری نسلیں بھی کانپ اٹھیں گی۔یہ انذار کیا ہے اور اگر ارتداد کی راہوں کو اختیار کرو گے تو خدا تعالیٰ کی گرفت میں آؤ گے۔یہ انذار کردو، ان کو سمجھا دو اور اگر مانو گے خدا کے پیار کو پاؤ گے۔۔۔۔اگر کوئی منافق بننا چاہتا ہے تو جبرا اسے روکا نہیں جاسکتا لیکن سزا اس کی بڑی سخت ہے۔إِنَّ الْمُنْفِقِيْنَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ۔اگر کوئی ارتداد اختیار کرتا ہے تو وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ خدایا میں نے بیس سال تو تیری پاک جماعت میں شامل رہ کر تیری راہ میں قربانیاں دی تھیں ان کا بدلہ تو مجھے دے۔حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فِي الدنیا ان کے ایسے اعمال ضائع ہو جائیں گے ان کا بھی کوئی بدلہ نہیں ملے گا مرتد کو یہ یا درکھنا چاہیے اور مرتد بنانے کی کوششیں بھی ہوتی ہیں شیطان کا یہ بھی کام ہے۔اَصْحَبُ الْجَحِيمِ کے جو تین معنے ہیں ان کی رو سے شیطان کے بھی تعین کام ہیں۔ایک اس کا کام ہے کہ انسان سے کفر کروائے یعنی قبول ہی نہ کرے صداقت کو جو إِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوا وَكَذَبُوا بِایتنا میں بیان ہوا ہے۔دوسرے شیطان کا یہ کام ہے جس وقت کوئی ایمان لے آتا ہے تو بڑا تلملاتا ہے شیطان۔یہ کیا ہو گیا۔میرے ہاتھ سے نکل گیا۔پھر وہ وسوسے پیدا کر کے انسان کو نفاق کی طرف لانے کی کوشش کرتا ہے اور یا وسو سے پیدا کر کے اسے ارتداد کی طرف لانے کی کوشش کرتا ہے۔(خطبات ناصر جلد ہشتم صفحه ۹۵۳۸۳