انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 162 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 162

۱۶۲ سورة البقرة تغییر حضرت خلیفہ المسح الثالث الْجَحِيمِ أَى فَلَا يَضُرُكَ تَكْذِيبُ الْمُكَذِّبِينَ الَّذِينَ يُسَاقُونَ بِجُعُوْدِهِمْ إِلَى الْجَحِيمِ لأَنَّكَ لَمْ تُبْعَثْ مُلْزِمًا لَّهُمْ وَ لَا جَبَّارًا عَلَيْهِمْ فَيُعَدُ عَدُهُ إِيْمَانِهِمْ تَقْصِيرًا مِّنْكَ تُسْأَلُ عَنْهُ بَلْ بُعِثْتَ مُعَلَّها وَ هَادِ بِالْبَيَانِ وَ الدَّعْوَةِ وَ حُسْنِ الْأَسْوَةِ لَا هَادِيًا بِالْفِعْلِ وَلَا مُلزمًا بِالْقُوَّةِ۔لَيْسَ عَلَيْكَ هُدُهُمْ وَلَكِنَّ اللهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ " (تفسیر المنار) یہ کہتے ہیں کہ اس کے معنے یہ ہیں کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) ہم نے تجھے عقائد حقہ کے ساتھ جو واقعات کے مطابق ہیں اور صحیح احکام کے ساتھ جو دینی اور دنیوی سعادت تک پہنچانے والے ہیں بھیجا ہے۔بشيرا اور تُو بشارت دینے والا ہے دونوں قسم کی سعادت کی ہر اس شخص کو جو حق کی پیروی کرے۔وَنَذِيرًا اور ڈرانے والا ہے دنیا اور آخرت کی بدبختی سے اسے جو اسے اختیار نہ کرے۔وَلَا تُسْئَلُ عَنْ اَصْحِبِ الْجَحِيمِ اُن مکذبین کی تکذیب تجھے کوئی ضرر نہیں پہنچائے گی جو اپنے انکار اور تکذیب کی وجہ سے جہنم کی طرف دھکیلے جائیں گے کیونکہ تو اس لئے مبعوث نہیں کیا گیا کہ تو ان پر دباؤ ڈالے یا انہیں مجبور کرے ایمان پر کہ ایمان نہ لانے کو تیری کو تا ہی شمار کیا جائے اور اس کے متعلق تجھ سے باز پرس کی جائے بلکہ تو اس لئے بھیجا گیا ہے کہ تو تعلیم اور ہدایت دے۔حق کو بیان کرے۔اس کی دعوت دے اور نیک نمونہ پیش کرے۔اپنے اُسوہ سے ان کو صداقت کی طرف بلائے نہ اس لئے کہ تو انہیں عملاً مجبور کر کے بالجبر ہدایت یافتہ بنائے یا اپنی طاقت سے ان پر دباؤ ڈالے۔دوسری جگہ فرمایا تیرا ذمہ نہیں کہ تو انہیں ضرور ہدایت تک پہنچائے لیکن اللہ تعالیٰ خود ہدایت دیتا ہے اسے جسے چاہتا ہے اور اس آیت میں ایک سبق بھی ہے کہ انبیاء کو بطور معلم کے بھیجا جاتا ہے نہ کہ بطور داروغہ کے اور نہ انہیں لوگوں کے دلوں میں تصرف کرنے کی طاقت حاصل ہوتی ہے یعنی ان کو یہ طاقت ہی نہیں دی گئی کہ لوگوں کے دل بدلیں۔کسی نبی کو نہیں دی گئی۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی خدا تعالیٰ نے دل بدلنے کی طاقت نہیں دی تھی۔اس میں خدا تعالیٰ نے یہ اعلان کیا ہے کہ میں نے دلائل مہیا کر دیئے ، آسمانی نشان ان کو دکھا دیئے۔اس سے زیادہ ان کی دینی بہبود کے لئے میں (خدا جو ساری طاقتوں کا مالک ہے ) بھی اور کچھ نہیں کروں گا۔ان کی مرضی پر چھوڑا ہے وہ میری رضا کی راہوں پر چلتے ہیں یا اپنے بد عملیوں کے نتیجہ میں میرے غصے کو بھڑکاتے ہیں۔تو یہ کہتے ہیں کہ انبیاء کو بطور معلم کے بھیجا جاتا ہے نہ کہ بطور داروغہ کے اور نہ انہیں لوگوں کے دلوں