انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 161 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 161

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث سورة البقرة تقاضوں کے پورا کرنے پر مجبور کرے کہ وہ نفاق کی راہوں کو اختیار نہ کریں یا کسی کو اس بات پر مجبور کرے کہ وہ ایمان لانے کے بعد ارتداد اختیار نہ کریں۔پس اگر وہ کفر پر اصرار کریں یا نفاق کی راہوں کو اختیار کریں یا ایمان لانے کے بعد ارتداد اختیار کریں اور فضول جھگڑا کریں تو اس میں تیرا کوئی نقصان نہیں اور تجھ پر کوئی الزام نہیں۔شیخ اسماعیل حقی کی تفسیر ہے روح البیان، وہ لکھتے ہیں۔(إِنَّا أَرْسَلْنَك حَالَ كَوْنِكَ مُتَلَيّسًا ( بِالْحَقِّ ( مُؤَيَّدًا بِهِ وَالْمُرَادُ الْحُجَجُ وَالْآيَاتُ وَسُمِّيَتْ بِهِ لِتَأْدِيَتِهَا إِلَى الْحَقِّ (بَشِيرًا حَالَ كَوْنِكَ مُبَشِّرًا لِمَنِ اتَّبَعَكَ۔۔۔وَنَذِيرًا ) أَتَى مُنْذِرًا وَمُخَوْفًا لِمَنْ كَفَرَبِكَ وَعَصَاكَ وَالْمَعْنَى أَنَّ شَأْنُكَ بَعْدَ إِظْهَارِ صِدْقِكَ فِي دَعْوَى الرَّسَالَةِ بِالدّلائِلِ وَالْمُعْجِزَاتِ لَيْسَ إِلَّا التَّعْوَةُ وَالْإِبْلَاغُ بِالتَّبْشِيْرِ وَالْإِنْذَارِ لَا أَنْ تُجْبِرَهُمْ عَلَى الْقُبُولِ وَالْإِيْمَانِ فَلَا عَلَيْكَ إِنْ أَصَرُّوا عَلَى الْكُفْرِ وَالْعِنَادِ (روح البيان) کہتے ہیں کہ یہاں حق سے مراد دلائل اور نشانات ہیں اور بشیرا تو بشارت دینے والا ہے ان کو جو تیری پیروی کریں اور نذیرا اور تو ڈراتا ہے انہیں جو تیرا انکار کریں، تیری نافرمانی کریں۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ دلائل اور معجزات کے ذریعہ تیرے دعوی رسالت کی سچائی کے اظہار کے بعد تیرا کام یہی ہے کہ تو اس حق کی طرف دعوت دے اور اسے لوگوں تک پہنچا دے خواہ خوشخبری دے کر یا ڈرا کر۔تیرا یہ کام نہیں کہ تو ان کو حق کے قبول کرنے یا اس پر ایمان لانے کے لئے مجبور کرے اور تیرے پر کوئی الزام نہیں کہ دلائل اور معجزات کے بعد انہوں نے کفر اور مخالفت پر اصرار کیوں کیا۔تیرا کام پہنچانا تھا تو نے پہنچادیا اور لَا تُسْلُ عَنْ أَصْحَب الْجَحِيمِ یہ باز پرس نہیں ہوگی کہ کیوں وہ ایمان نہیں لائے۔ایک تفسیر ہے تفسیر المنار الامام الشیخ محمد عبدہ لیکچر دیا کرتے تھے ان کے ایک شاگرد ہیں سید رشید رضا صاحب انہوں نے ان کے جو لیکچر تھے یعنی قرآن کریم کے درس ان کو اکٹھے کر کے شائع کئے ہیں۔وہ لکھتے ہیں کہ اس آیت کے معنے یہ ہیں کہ انَّا اَرْسَلْنَاكَ بِالْعَقَائِدِ الْحَقِ الْمُطَابِقَةِ لِلْوَاقِعِ وَالشَّرَائِحِ الصَّحِيحَةِ الْمُوْصِلَةِ إِلَى سَعَادَةِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ بَشِيرًا لِمَنْ يَتَّبِعُ الْحَقَ بِالسَّعَادَتَيْنِ (یعنی سعادت دنیا اور آخرت) وَ نَذِيرًا لِمَنْ لا يَأْخُذُ بِهِ بِشَقَاء الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ ۖ وَلَا تُسْئَلُ عَنْ أَصْحَابِ