انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 146
۱۴۶ سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث man) کے معنے سن آف مین (Son of man) کے علاوہ کوئی اور ہو ہی نہیں سکتے کیونکہ اصطلاح لغوی معنے کو محدود کرتی ہے اس میں وسعت پیدا نہیں کرتی وہی پادری کہنے لگا نہیں۔میں نے دل میں کہا میرا مقام بحث کرنے کا نہیں بلکہ اللہ پر توکل کرنے کا ہے چنانچہ جو ان کا لیڈر تھا اس کو میں نے کہا کہ یہ کہتا ہے کہ نہیں ایسا نہیں ہو سکتا۔میں اس کو جواب دینا نہیں چاہتا تم اس کا جواب دو۔ان کے لیڈر نے کہا یہ ٹھیک کہتے ہیں تم غلط کہتے ہو۔غرض اسلام میں اسلام کی اصطلاح لغوی معنی کو بہر حال محدود کرے گی یعنی لغت اگر اسلام کے لفظ کو چار معانی میں استعمال کرتی ہے تو یہ اس سے کم معانی میں استعمال کرے گی۔چنانچہ اسلام کی اصطلاح بلی مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ میں استعمال ہوتی ہے۔اس آیہ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ اسلام کے اصطلاحی معنے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنا تمام وجود اللہ تعالیٰ کو سونپ دینا۔گو یا لغوی معنی کے برعکس اپنے آپ کو کسی کے سونپ دینا اصطلاحی معنے ہیں اسلام کے اور بھی معنی ہیں لیکن باقیوں کی نسبت اس کو اصطلاحی معنوں کے لحاظ سے اسلام نے پیش کیا ہے اور یہ اللہ کے حضور اپنے آپ کو سپرد کر دینے کے متعلق ہے زید بکر یا یہ اور وہ یا بہت یا قوم کی طاقت یا سٹیٹ (State) کمیونسٹ بعض دفعہ کہہ دیتے ہیں کہ عوام ہمارا خدا ہے ان سب کو چھوڑ کر صرف ایک اللہ کو اسلام نے اس رنگ میں پیش کیا ہے کہ گویا انسان اپنا سب کچھ اس کو سونپ دیتا ہے یہ اور دو قسم کا ہوتا ہے ایک اعتقادا اور ایک عملاً۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک جگہ مختصراً یہ مضمون بڑے لطیف پیرایہ میں بیان فرمایا ہے۔آپ کے نزدیک اعتقاداً سونپ دینے کے معنے یہ ہیں کہ انسان یہ اعتقاد رکھے کہ میرا وجود خدا تعالیٰ کے ارادوں کے ماتحت ارادے رکھنے اور اس کی رضا اور خوشنودی کے حصول کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ایک مسلمان کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ انسانی پیدائش کی کیا وجہ ہے۔خدا نے اُسے کیوں پیدا کیا ہے؟ اعتقاد مسلمان وہ شخص ہے جو یہ اعتقاد رکھتا ہے اور یہ یقین رکھتا ہے کہ میرے رب نے مجھے اس لئے پیدا کیا ہے کہ میں آوارہ ارادوں کا مالک نہ بنوں بلکہ اپنے ارادے اور خواہشات کو خدا تعالیٰ کے لئے وقف کر دوں اپنی ہر خواہش کو اُس کے ارادوں کے ماتحت کر دوں۔جو اللہ کا ارادہ ہے وہی ہمارا ارادہ ہو جائے۔جو اللہ کی رضا ہے وہی ہماری رضا بن جائے اور عملاً مسلمان ہونا اور اپنے وجود کو اللہ کو سونپ دینے کے یہ معنے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جتنی طاقتیں دی ہیں وہ ساری کی ساری نیکی