انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 147
تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۱۴۷ سورة البقرة کے کاموں پر خرچ ہوں اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہت سی طاقتیں دی ہیں۔اتنی طاقتیں دیں کہ اگر وہ اپنی ساری قوتوں کو بحیثیت انسان مجموعی طور پر استعمال کرے تو زمین و آسمان کو اپنا خادم بنا سکتا ہے اسی لئے انسان کو نہ صرف جسمانی اور ذہنی اور علمی قو تیں عطا کی گئیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اخلاقی اور روحانی قوتیں بھی بخشیں۔جس طرح خلق خدا میں اتنی وسعت ہے کہ اسے ہم غیر محدود کہتے ہیں اسی طرح انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے محدود طاقتیں اور قو تیں عطا کی گئی ہیں۔انسان کہتے ہی اس وجود کو ہیں جو خداداد طاقتوں اور استعدادوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔اگر آپ سوچیں کہ یہ میرا جسم ہے یہ آپ کا جسم ہے ویسے دراصل انسان صرف جسم کا نام نہیں ہے کیونکہ مادی جسم کے لحاظ سے گدھے کا جسم بھی مٹی کے اجزاء سے بنا ہے اور کتے کا بھی بنا، اونٹ اور بیل اور شیر اور ہاتھی اور بے شمار مخلوق دُنیا کی چرند پرند اور درندے ہیں ان کے وجود بھی بنے اس لئے جہاں تک انسانی نفس کے مادی وجود کا تعلق ہے۔انسان اور حیوان میں کوئی فرق نہیں۔اس واسطے صرف مادی جسم کے لحاظ سے کسی کو ہم انسان نہیں کہہ سکتے۔آخر جانور اور انسان میں کوئی امتیاز پیدا ہونا چاہیے۔جہاں تک احساس کا تعلق ہے ایک درخت میں بھی جس ہے اور ایک انسان میں بھی حِس ہے۔ایک درخت ایسا بھی ہے کہ اگر انسان اس کو جرات کر کے ہاتھ لگالے تو اس کے پتے شرما کر سکڑ جاتے ہیں۔درخت میں جس ہے تو سکڑتے ہیں۔ان کو اگر آپ ضرورت سے زیادہ غذا دے دیں تو جس طرح انسان کو نقصان پہنچتا ہے۔اسی طرح اس درخت کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔بعض دفعہ انسان زیادہ کھانے سے زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔میں اس کا عینی شاہد ہوں۔ایک دفعہ غلطی سے ایک درخت کو شام کے وقت میں نے ضرورت سے زیادہ غذا دے دی۔اور صبح جب میں اُٹھا تو وہ مرا ہوا تھا۔تو یہ جس انسان اور درختوں کی زندگی میں برابر ہے۔یہ زندگی حیات کا نام ہے۔اس میں حیوان اور انسان برابر ہیں پس وہ کیا چیز ہے جو فرق پیدا کرتی ہے اور امتیاز پیدا کرتی ہے اور فرقان پیدا کرتی ہے انسان اور دوسری خلق میں وہ یہی انسانی قوت اور استعداد ہی تو ہے۔تمام قوتوں کے حصول کے نتیجہ میں انسان کے لئے تسخیر عالمین کا امکان پیدا ہوا۔اگر انسان کو قو تیں دی جاتیں لیکن اس کے اندر ہمت نہ ہوتی اسے عزم نہ عطا کیا جاتا اس کے دل میں کوئی خواہش نہ پیدا ہوتی۔وہ کوئی بڑا ارادہ نہ رکھتا۔اس