انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 138
۱۳۸ سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث کے اور کسی کو حاصل نہیں۔ہمیں خدا تعالیٰ نے ایک سیدھا راستہ دکھا دیا ہے، وہی راستہ جو اسلام کا راستہ ہے اور ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم اس پر چل کر اپنے آپ کو ایسا بنا ئیں کہ ہم خدا تعالیٰ کی نگاہ میں مومن اور جنت کے مستحق قرار پاتے چلے جائیں۔پس ہم اس امر کی پرواہ کئے بغیر کہ دائیں طرف سے آوازیں آرہی ہیں یا بائیں طرف سے آواز میں آرہی ہیں اس راستہ پر چلتے چلے جائیں گے۔( خطبات ناصر جلد ششم صفحه ۱۴۵ تا ۱۴۸) جہاں تک کمیونزم (اشتراکیت ) یا سوشلزم یا دوسرے مختلف ازم جن میں کیپٹیل ازم بھی شامل یاد ہے، کا تعلق ہے ان کے متعلق ہم مسلمانوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اسلام اس قدر کامل اور مکمل نظام زندگی پیش کرتا ہے کہ دنیا میں معاشی اور اقتصادی مساوات کے قیام کی کوئی انسانی کوشش اس کی ہوا کو بھی نہیں پہنچتی وہ اس کی رفعتوں کے قریب بھی نہیں پھٹکتی۔اس لئے ہمیں اسلامی نظام زندگی کو سمجھنے اور اس کو قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔اسلام کا نظام زندگی جس میں معاشیات اور اقتصادیات بھی شامل ہیں ایک مرکزی نقطہ پر قائم ہے اور وہ ہے اللہ اسلام نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ اللہ تمام صفات حسنہ سے متصف اور اپنی ذات میں اور صفات میں کامل ہے ہمارا پیدا کرنے والا ہے، وہ ہمارا آقا ہے، ہمارا رب ہے وہ ہمیں زندگی بخشتا ہے اور ہماری زندگی کو قائم رکھنا بھی اسی کا کام ہے اور ہر چیز اسی کی ملکیت ہے اس لئے ہمیں ہر وقت اس سے ایک زندہ تعلق قائم کرنے کی ضرورت ہے ہر مخلوق کا وہی خالق ہے اور ہر خلق کا کوئی مقصد ہے اور وہ مقصد یہ ہے اے انسان! کہ ہر چیز کو تیرے لئے پیدا کیا گیا ہے پس کسی فرد واحد کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ حقیقی اور غیر مشروط ملکیت کا دعویٰ کرے۔ہر انسان کے پاس جو چیز بھی ہے وہ بطور امانت کے ہے اور اپنی امانتوں کو دیانتداری کے ساتھ ادا کرنا اس کا فرض ہے۔اسلام نے اللہ تعالی کی تمام ایسی صفات کا ذکر کیا ہے جن کا تعلق مخلوق کے ساتھ ہے اور وہ شبیہی صفات کہلاتی ہیں۔اس مرکزی نقطہ یعنی اللہ کے تصور سے دو خط ممتد ہوئے یعنی دو لکیریں نکلیں ایک خط یا لکیر کو ہم وہ صراط مستقیم" کہتے ہیں جو بندے کو خدا تک پہنچاتا ہے یعنی حقوق اللہ کی ادائیگی اور دوسرا وہ خط ہے جو بندہ کو بندہ کے ساتھ اخوت اور محبت اور ہمدردی اور غم خواری اور احسان اور ایتاء ذی القربی“ کے رشتوں کے ساتھ باندھتا ہے اسے ہم حقوق العباد کا راستہ کہتے ہیں یعنی وہ راستہ جس پر چل کر اسلام کی