انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 137
۱۳۷ سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث خلوص نیت کے ساتھ اپنا سارا وجود خدا کے سپرد کر دے یعنی اس کا ہور ہے اور جو احکام خدا نے دیئے ہیں انہیں پورے اخلاص اور تعہد کے ساتھ بجالائے اور اس طرح نیک اعمال بجالانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھے وہ جنت کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ان آیات سے صاف عیاں ہے کہ کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنے آپ کو جنت کا مستحق قرار دے۔یہ فیصلہ تو خدا نے کرنا ہے کہ کون بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَ هُوَ مُحْسِن کا مصداق ہونے کے باعث جنت کا مستحق ہے اور کون خدا تعالیٰ کا نافرمان ہونے کے باعث جہنم کا حقدار ہے۔محض نام کی بنا پر کوئی شخص بھی جنت کا مستحق نہیں ٹھہر سکتا۔خدا تعالیٰ تو صرف اُس کو ہی جنت کا مستحق قرار دے گا جو اس کے احکام پر چلنے والا ہوگا۔۔۔۔۔۔اللہ تعالیٰ نے سورۃ بقرہ کی ان دو آیات میں یہ بتایا ہے کہ یہود اور نصاریٰ کا اپنی اپنی جگہ یہ کہنا کہ بجز یہودیوں کے اور کوئی جنت میں نہیں جائے گا یا بجز نصاریٰ کے جنت میں جانے کا اور کوئی مستحق قرار نہیں پائے گا ایک ایسا دعویٰ ہے جس کی کوئی دلیل نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ اس حقیقی مسلمان کو جنت میں جانے کا حقدار قرار دے گا جو اپنے وجود کو اعتقادی اور عملی طور پر خدا تعالیٰ کی راہ میں وقف کر دکھائے اور جو اس درجہ محسن اللہ ہو کہ بجز طاعت خالق اور ہمدردی مخلوق کے اس میں اور کچھ باقی نہ رہے اس کے جنت کا مستحق ہونے کی دلیل یہ ہے کہ فَلَةٌ أَجُرُه عِندَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ کی رو سے خدا تعالیٰ ایسے حقیقی اور کامل فرمابردار مومن کو اسی دنیا میں جنت عطا کر دیتا ہے۔وہ جس حال میں بھی ہو دم نقد بہشت میں ہوتا ہے۔پھر وہ اگلے جہان میں بھی اسے جنت عطا کرے گا۔سو گویا وہ ایک جنت سے نکل کر دوسری جنت میں داخل ہو جائے گا۔دو ص سورۃ بقرۃ کی ان آیات کی رُو سے کسی کے جنت کا مستحق ہونے کا فیصلہ خدا نے کرنا ہے۔انسانوں کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ خود اپنے یا کسی اور کے جنّت میں جانے یا نہ جانے کا فیصلہ کریں۔جو یہ فیصلہ کرتے ہیں وہ غلطی پر ہیں۔اصل چیز تو خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنی زندگی کو وقف رکھنا ہے جس نے اپنی زندگی خدا تعالیٰ کی راہ میں وقف کر کے اور محسن اللہ ہو کر اسی دنیا میں جنت حاصل نہیں کی وہ محض رسمی تعلق کی بنا پر اگلے جہان میں جنت میں کیسے چلا جائے گا جائے گا وہی جو بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنُ کا مصداق ہوگا اور کون اس کا مصداق ہے اور کون نہیں ہے یہ خدا تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔اس کا فیصلہ اس نے ہی کرنا ہے یہ فیصلہ کرنے کا اختیار بجز اس