انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 139
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۱۳۹ سورة البقرة تعلیم کے مطابق حقوق العباد حاصل کئے جانے چاہئیں۔ان دونوں خطوط یا لکیروں کا ذکر اس آیۃ کریمہ میں ہے جو ابھی میں نے تلاوت کی ہے۔اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ اسلامی تعلیم دوحصوں میں منقسم ہو جاتی ہے ایک یہ کہ اللہ کی رضا کے لئے اپنی تمام خواہشات کو ترک کر دیا جائے اور اس کی رضا کے لئے اپنے پر موت وارد کی جائے اور اس سے ایک نئی اخلاقی اور روحانی زندگی حاصل کی جائے۔اس حصہ كا ذكر مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ میں ہے دوسرا خط یا لکیر جو اس مرکزی نقطہ سے نکلی وہ " وَهُوَ مُحْسِنٌ وه “ کا خط یا لکیر ہے اسلام کی مادی، تمدنی، معاشی، سیاسی ، اقتصادی تعلیم اسی سے تعلق رکھتی ہے۔احسان کے ایک معنی ہیں خوبصورت بنانا اور دوسرے معنی ہیں نیک عقائد اور نیک تعلیم کا علم حاصل کرنا اور ان پر عمل کرنا۔انسان کو انسان سے باندھنے والے اس خط کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح بیان کیا ہے کہ ہم نے انسانی معاشرہ کی جو تعلیم دی ہے اگر تم اس پر چلو تو دنیا میں ایک نہایت حسین اور جمیل معاشرہ قائم ہو جائے گا تو اس معاشرہ کی بنیا د احسان پر ہے۔احسان کے معنی ہیں جتنا حق دوسرے کا مجھ پر ہے میں اسے اس سے زیادہ دوں اور جتنا حق میرا دوسرے پر ہے میں اس سے کم حق اس سے وصول کروں۔جتنے جھگڑے آج دنیا میں یا آج کل بد قسمتی سے ہمارے ملک میں پیدا ہو گئے ہیں یہ احسان کی نیگیشن (Negation) یعنی نفی ہے یعنی ہر ایک شخص یہ کہتا ہے کہ مجھے میرے حق سے زیادہ دو یا وہ یوں کہتا ہے کہ جو میر احق ہے وہ مجھے دو اور جو تمہاراحق ہے وہ میں دینے کے لئے تیار نہیں اور اس طرح فتنہ کا دروازہ کھل گیا ہے۔اسلام نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ اسلامی معاشرہ احسان کی بنیاد پر قائم ہے یعنی ہر شخص اور ہر گروہ اپنے حق سے کم وصول کرنے میں بشاشت محسوس کرے اور جو حق دوسرے کے اس پر ہیں اسے اس سے زیادہ دینے میں خوش ہو اگر یہ معاشرہ قائم ہو جائے تو کوئی جھگڑا باقی نہیں رہتا مثلاً قرآن کریم نے ہر انسان کا یہ حق قائم کیا ہے کہ وہ بھوکا نہیں رہے گا یعنی کم سے کم خوراک جو اس کی زندگی کے قیام اور اس کی صحت کی بحالی کے لئے ضروری ہے وہی اسے ملنی چاہیے اگر قرآن کریم میں صرف اسی قدر بیان ہوتا تو پھر بھی جھگڑا پیدا ہونے کا احتمال تھا کہ معلوم نہیں ابھی ضرورت پوری ہوئی ہے یا نہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے کہ انسان کی زندگی کے قیام اور صحت کی بحالی کے لئے جو کم سے کم خوراک درکار ہے اس کو اس سے کچھ زیادہ دوتا کوئی جھگڑا پیدا نہ ہو، بدظنی پیدا نہ ہو، اگر مثلاً ایک کارخانہ دار ایک مزدور کو اس کے حق سے کچھ زائد دینے پر اصرار کرے اور۔