انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 8 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 8

تفسیر حضرت خلیفة امسح الثالث سورة الفاتحة ایسے ہی انسان کامل کی ضرورت تھی۔(خطابات ناصر جلد اوّل صفحہ ۳۰۵ تا ۳۱۲) الحمد للہ۔اللہ جس پر قرآن کریم کی رو سے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت سے ہم ایمان لاتے ہیں وہ تمام تعریفوں کا مستحق ہے کسی چیز یا کسی وجود کی تعریف بنیادی طور پر دو وجوہ سے کی جاتی یا کی جا سکتی ہے۔ایک تو اس کے ذاتی حسن کی وجہ سے اور دوسری اس کے احسان کی قوتوں اور احسان کی صفات کی وجہ سے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ حسن حقیقی صرف اس کی ذات میں پایا جاتا ہے سورۃ فاتحہ کو ہی لیں سورۃ فاتحہ میں یہ تعلیم بیان ہوئی ہے اور جس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وضاحت سے روشنی ڈالی ہے۔وہ ایک نہایت ہی حسین تعلیم ہے لیکن سورۃ فاتحہ میں جو حسن انسان کو نظر آتا ہے وہ اس سورۃ کا ذاتی حسن نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی صفات کے کچھ جلووں نے سورۃ فاتحہ کی شکل اختیار کی ہے۔اسی طرح گلاب جو اچھا پرورش یافتہ ہو وہ نہایت خوبصورت شکل میں ہمارے سامنے آتا ہے لیکن گلاب کی خوبصورتی اور اس کی دل کشی اور اس کا حسن اس کا اپنا حسن نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی بعض اور صفات گلاب کی شکل میں مجسم ہوئی ہیں اور اتنا عظیم حسن گلاب کے اندر پایا جاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو سورۃ فاتحہ گلاب کی شکل میں دکھائی گئی۔غرض نہ تو سورۃ فاتحہ کا حسن جو ہمارے دلوں کو موہ لیتا ہے اس کا اپنا حسن ہے اور نہ گلاب کے پھول جو ایک نہایت ہی خوبصورت پھول ہے) کا حسن اس کا اپنا حسن ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی صفات کے جلوے ہیں جو ایک جگہ ہمیں سورۃ فاتحہ کی خوبصورت شکل میں نظر آتے ہیں اور دوسری جگہ وہی اللہ تعالیٰ کے جلوے گلاب کی شکل میں ہمیں نظر آتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سورۃ فاتحہ اور گلاب کی مماثلت کو خاصی تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔میں اس وقت اس تفصیل میں جانے کا ارادہ نہیں رکھتا کیونکہ میں مختصراً جو مضمون بیان کر رہا ہوں اس کے ساتھ اس کا تعلق نہیں ہے۔بہر حال حسن جہاں بھی اس دنیا میں ہمیں نظر آتا ہے وہ اس چیز کا ذاتی حسن نہیں جس میں وہ اس مادی دنیا میں ہمیں نظر آتا ہے۔دنیا کی مخلوق میں (اور دنیا ساری مخلوق ہے اس میں کوئی استثنا نہیں ) خواہ ہماری نظر کسی جگہ پر پہنچے یا ہماری نظراب تک پہنچی ہو یا ابھی تک ہماری نظر نہ پہنچی ہو یا کبھی بھی ہماری نظر نہ پہنچ سکے اس میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔جو بھی خوبصورتی اور دل کشی اور حسن انسان کو نظر آتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی صفات یا اللہ تعالیٰ کی کسی ایک صفت کا کوئی