انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 7
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث 2 سورة الفاتحة باری کا وہ کامل مظہر ہو۔صرف اللہ کی اس صفت کا وہ مظہر نہ ہو کہ وہ ذوانتقام ہے۔خدا تعالیٰ بدلہ لیتا ہے جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نمایاں طور پر خدا کی اس صفت کا مظہر بنے اور انتقام لینے پر آپ نے زور دیا، یا وہ اللہ کی صرف اس صفت کا مظہر نہ بنے کہ وہ غفور ہے معاف کر دیتا ہے۔جیسے حضرت مسیح علیہ السلام صرف اس صفت کا نمایاں طور پر مظہر بنے اور صفات کا بھی بنے لیکن نمایاں طور پر اس صفت کا مظہر بنے اور یہ کہا کہ اگلا آدمی خواہ بدیوں میں ترقی کرتا چلا جائے تم اس کو معاف کرتے چلے جاؤ اور یہ نہیں بتایا کہ سوچ لیا کرو کہ تمہارے معافی دینے کے ساتھ کہیں وہ اپنی بدیوں میں تو ترقی کر کے اللہ تعالیٰ سے اور بھی بعد تو نہیں حاصل کر لیتا۔تو ان آیات سے خصوصاً اس آیت سے کہ میں اپنا ایک نائب اور خلیفہ بنانا چاہتا ہوں اس بات کا پتہ لگتا ہے کہ کائنات کی پیدائش کا اصل اور حقیقی مقصد یہ تھا کہ ایک ایسا انسان وجود پذیر ہو جو اللہ (اور اللہ کے معنے ہیں متجمع جمیع صفات کا ملہ حسنہ۔وہ ذات جو تمام کامل اور اچھی صفات کی جامع ہے ) کا مظہر اتم بن جائے یعنی اس کے اندر بھی ظلی طور پر تمام صفات الہیہ جمع ہو جا ئیں۔تو اس سے ہمیں تین چیزوں کا پتہ لگا ایک یہ کہ مقصد کا تعلق انسان سے ہے۔دوسرے یہ کہ یہ مقصد یہ ہے کہ بنی نوع انسان اس لئے پیدا کئے گئے ہیں کہ پیدائش عالم کا یہ مقصد حاصل ہو سکے کہ ایک ایسی نوع پیدا ہو جائے جو صفات باری کی مظہر بنے کی قوت اور استعدادا اپنے اندر رکھ سکتی ہو اور ہمیں یہ پتہ لگا کہ اصل اور حقیقی مقصد یہ ہے کہ ایک ایسا انسان کامل پیدا ہو جو اللہ تعالیٰ کا مظہر اتم ہو یعنی اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کا مظہر ہو تمام صفات کا جو مظہر ہو گا اصولی طور پر وہ اللہ کا مظہر ہوگا۔وہ إِنَّ بَطْشَ رَبَّكَ لشديد (البروج : ۱۳) کی صفت کا بھی مظہر ہو گا جب گرفت کرے گا تو اس کی گرفت بھی بڑی سخت ہو گی اس میں بھی وہ اللہ تعالیٰ کی صفت کا مظہر ہوگا اور وَ رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ (الاعراف: ۱۵۷) کی ایک صفت باری ہے۔جب وہ رحمت کرنے پر آئے گا تو اس میں بھی وہ کامل طور پر اللہ کی اس صفت کا مظہر ہو گا۔جب وہ معاف کرے گا تو لا تثریب عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ (يوسف:۹۳) کا ایسا نعرہ لگائے گا کہ انسانی تاریخ اس کی مثال نہیں پیش کر سکے گی۔جب وہ عزیز ہونے کی صفت کا مظہر بنے گا تو سارا عرب جب اکٹھا ہو جائے گا تو وہ قدرت الہی جو اس میں جلوہ گر ہوگی ہوا کے ذروں کی طرح اسے اڑا کے رکھ دے گی۔پس تمام صفات کا وہ مظہر ہو گا۔اس مقصد کے حصول کے لئے ایک