انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 9
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث سورة الفاتحة جلوہ ہے جس نے وہ رنگ اختیار کر لیا ہے مثلاً سورج ہے اس نے ایک جہاں کو روشن کیا ہوا ہے۔پھر وہ صرف زمین کو ہی روشن نہیں کرتا بلکہ اس نے بعض اور سیاروں کو بھی روشن کیا ہوا ہے۔چاند کو لے لو وہ سورج سے روشنی لیتا اور پھر اس کو آگے پہنچاتا ہے لیکن یہ روشنی جو سورج میں انسان کو دکھائی دیتی ہے یہ سورج کی اپنی روشنی نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا ہی نور ہے جو اس دنیا کو جو سورج کی دنیا ہے منور کر رہا ہے اور سورج کے پردہ میں منور کر رہا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ہستی انسانی آنکھ کو ظاہراً نظر نہیں آ سکتی۔اس مادی دنیا میں اسباب کے پردوں میں اس کی صفات انسان کے سامنے آتی ہیں اور اس طرح پر وہ نیک اور پاک اور عقل مند لوگوں کو اپنا چہرہ دکھاتا ہے۔غرض جہاں بھی کوئی خوبی یا حسن پایا جائے وہ اس چیز کا نہیں ہے جس میں وہ پایا جاتا ہے بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کا حسن ہے وہ اللہ تعالیٰ کی خوبصورتی ہے اور اس وجہ سے انسان جو غور کرتا اور صحیح لائنوں پر اور صحیح طریقوں پر فکر اور تدبر کرتا اور دعاؤں سے حقیقتہ الاشیاء سمجھتا ہے یہ کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ الحمد لله یعنی سب تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کی ہیں کوئی اور وجود یا ہستی یا شے یا کره یا انسان یا درخت یا کوئی اور شکل جس میں کوئی حسن پایا جاتا ہے ان کے اندر حقیقتا کوئی حسن نہیں پایا جاتا بلکہ یہ حسن اللہ تعالیٰ کا حسن ہے یہ ایک جلوہ ہے خدا کا جو اس شکل میں ہمارے سامنے آ گیا۔دوسری وجہ تعریف کی احسان بنتا ہے۔آپ نے اپنی زندگی میں بیسیوں یا شایدسینکڑوں دفعہ سنا ہوگا کہ بڑا اچھا ہے فلاں شخص وہ مخلوق کا بڑا ہمدرد ہے یا بڑا اچھا ہے فلاں شخص اور پھر انسان اس کی بڑی لمبی چوڑی تعریف کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اس نے فلاں موقعہ پر مجھ پر احسان کیا تھا یا بڑا اچھا ہے لاں شخص۔اس کا اپنی بیوی کے ساتھ بڑا اچھا سلوک ہے یا بڑا اچھا ہے فلاں شخص کیونکہ وہ اپنے بچوں کی صحیح تربیت کرتا ہے اور انہیں اسلام کا خادم بنانے کی کوشش کر رہا ہے یا بڑا اچھا ہے یہ درخت کیونکہ اس کے پھل بڑے میٹھے ہیں یا بڑا اچھا ہے زمینی ذرات کا یہ مجموعہ۔دیکھو یہ کس طرح چمکتا ہے کتنا قیمتی ہیرا بن گیا ہے اور اس سے ہم ہزار قسم کے فائدے اٹھاتے ہیں آگے یہ ہیرا خود ایک محسن ہے بلکہ ہر چیز دوسرے پر احسان کرنے والی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں کسی چیز کو لغو پیدا نہیں کیا اس لئے ہر مخلوق محسن کی شکل میں ہمارے سامنے آتی ہے لیکن اس میں احسان کی قوت اس کے کسی ذاتی ہنر کی وجہ سے نہیں بلکہ وہ اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احسان کا کوئی جلوہ وہ شکل