قرآن مجید کا محافظ اللہ تعالیٰ ہے — Page 114
قرآن مجید کا محافظ اللہ تعالیٰ ہے ( قرآن مجید کی 26 آیات پر اعتراضات کے جوابات) اور نقصان کا خطرہ نہیں اُنکو دوست بنانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔بلکہ تاریخ اسلام کے مطالعہ سے علم ہوتا ہے کہ مصائب اور مخالفت کے دنوں میں حضور سیلا ہی ہم نے اپنے صحابہ کو حبشہ کے عیسائی بادشاہ اصمحہ نجاشی کے پاس چلے جانے کا حکم دیا حالانکہ وہ عیسائی تھا لیکن اپنے حسن سلوک کی وجہ سے وہ معروف و مشہور تھا اور بالفعل اختلاف عقیدہ کے باوجود اُس نے مسلمانوں کو اپنے ملک میں نہ صرف پناہ دی بلکہ انکو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں بھی مدددی۔اسی طرح کا ایک اور واقعہ یہ ہے کہ نجران سے عیسائیوں کا ایک وفد مورخہ 24 ذی الحجہ بمطابق 21 رمضان 632 کو مدینہ آیا حضور صلی یا پی ایم نے ان کا اکرام و احترام فرمایا اور انکو مسجد نبوی ملالہ ہی تم میں بٹھا کر تبلیغی بات چیت کی اور جب اُنکی عبادت کا وقت آیا تو آپ مسل لی پی ایم نے صحابہ سے فرمایا انہیں اسی مسجد میں عبادت کرنے دو چنانچہ انہوں نے مشرق کی طرف رُخ کر کے اپنی عبادت کی۔( بحوالہ ابن سعد۔ذکر و فادات العرب وفد نجران ) پس ان دو واقعات سے معلوم ہوا کہ جن یہود اور نصاری سے دوستی نہ رکھنے کی تعلیم دی جارہی ہے وہ وہی ہیں جو اسلام اور بانی اسلام کے خلاف سازشیں کرتے تھے اور نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے تھے۔اسکے علاوہ باقی یہود ، نصاری سے تعلقات 114