قرآن مجید کا محافظ اللہ تعالیٰ ہے — Page 43
قرآن مجید کا محافظ اللہ تعالیٰ ہے ( قرآن مجید کی 26 آیات پر اعتراضات کے جوابات) کامل نہیں ہے۔کیونکہ اس میں دشمن سے مقابلے کے لیے تعلیمات نہیں ہیں۔حتی کہ اس میں تعلیم بھی دی گئی ہے کہ اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں متصادم ہو جائیں تو کیا کرنا ہے۔اس سلسلے میں قرآنی فرمان ہے: وَ إِنْ طَابِفَتْنِ مِنَ ج الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِن بَغَتْ اِحْدُهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ ج إِلَى أَمْرِ اللَّهِ فَإِنْ فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ : ( سورۃ الحجرات ، صورۃ نمبر 49 آیت نمبر 10) ترجمہ: اور اگر مومنوں میں سے دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرواؤ۔پس اگر ان میں سے ایک دوسری کے خلاف سرکشی کرے تو جو زیا دتی کر رہی ہے اس سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے فیصلہ کی طرف لوٹ آئے۔پس اگر وہ لوٹ آئے تو ان دونوں کے درمیان عدل سے صلح کرواؤ اور انصاف کرو۔یقیناً اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔مذکورہ بالا آیت میں حسب ذیل امور بیان کیے گئے ہیں۔43