قندیلیں

by Other Authors

Page 36 of 194

قندیلیں — Page 36

ہے کہ اب میں منزل پر پہنچ گیا۔اگر یہاں آکر بھی اس کو دوہتی تکلیف ہو تو یقیناً اس کی د شکنی ہوگی۔ہمارے دوستوں کو اس کا خیال رکھنا چاہیے۔اس کے بعد جب تک وہ مہمان شہرے رہے حضور کا یہ معمول تھا کہ روزانہ ایک گھنٹہ کے قریب ان کے پاس آ کر بیٹھنے اور تقریب وغیرہ فرماتے۔جب وہ واپس ہوئے تو صبح کا وقت تھا۔حضور نے دو گلاس دودھ کے منگوائے اور انہیں فرمایا۔یہ پی لیجئے اور نہر تک انہیں چھوڑ نے کیلئے ساتھ گئے۔راستہ میں گھڑی گھڑی ان سے فرماتے رہے کہ آپ تو مسافر میں آپ یکتہ میں سوار ہوئیں مگر وہ سوار نہ ہوئے۔بہر پر پہنچ کر انہیں سوار کو اگر حضور واپس تشریف لائے۔اصحاب احمد جلد چہارم صفحه ۹۳-۹۴) اد پر بھی پانی اور نیچے بھی پانی حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ منشی روڑا صاحب محمد خان صاحب اور خاکسار قادیان سے رخصت ہونے لگے گرمیوں کا موسم تھا اور گرمی بہت سخت تھی۔اجازت اور مصافحہ کے بعد منشی روڑا صاحب نے کیا حضور گرمی بہت ہے۔ہمارے لئے دعا کریں کہ پانی ہمارے اوپر اور نیچے ہو۔حضور نے فرمایا خدا قادر ہے۔میں نے عرض کیا حضور یہ دعا ان کے لئے فرمانا میرے لئے نہیں کہ ان کے اوپر نیچے پانی ہوہ۔قادیان میں کیمیہ میں سوار ہو کر ہم تینوں چلے تو خاکروبوں کے مکانات سے ذرا آگے نکلے تھے کہ یکدم بادل آکر سخت بارش شروع ہو گئی۔اس وقت سڑک کے گرد کھائیاں بہت گہری تھیں۔تھوڑی دور جا کر یکہ الٹ گیا منشی روڑا صاحب بدن کے بھاری تھے۔وہ نالی میں گر گئے اور محمد خان صاحب اور میں کود پڑے۔منشی روڑا صاحب کے اوپر نیچے پانی اور وہ سنتے جاتے تھے۔(اصحاب احمد جلد چهارم صفحه ۲۹۴