قندیلیں — Page 35
۳۵ اس کو کہتے ہیں دلداری حضرت منشی ظفر احمد صاحب فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ دو شخص منی پور آسام سے قادیان آئے اور مہمان خانہ میں آکر انہوں نے خادمان مہمان خانہ سے کہا کہ ہمارے بستر اتارے جائیں۔چارپائی بچھائی جائے خادموں نے کہا آپ خود۔۔۔اپنا اسباب اتروائیں۔چار پائیاں بھی مل جائیں گی۔دونوں مہمان اس بات پر رنجیدہ ہو گئے اور فوراً یکتہ میں سوار ہو کر واپس روانہ ہو گئے۔میں نے مولوی عبد الکریم صمتنا سے یہ ذکر کیا تو مولوی صاحب فرمانے لگے جانے بھی دو ایسے جلد بانہوں کو حضور کو اس واقعہ کا علم ہوا تو نہایت جلدی سے ایسی حالت میں کہ جوتا پہننا بھی مشکل ہو گیا حضور ان کے پیچھے نہایت تیز قدم سے چل پڑے۔چند خدام بھی ہمراہ تھے۔میں بھی ساتھ تھا۔بہر کے قریب پہنچ کر ان کا یکہ مل گیا اور حضور کو آنا دیکھ کر وہ یکہ سے اتر پر ہے۔حضور نے ان کو واپس چلنے کے لئے فرمایا کہ آپ کے واپس ہونے کا مجھے درد پہنچا چنانچہ وہ واپس ہوئے حضور نے یکہ میں سوار ہونے کے لئے فرمایا اور کہا کہ میں ساتھ ساتھ چلتا ہوں مگر وہ شرمندہ تھے اور وہ سوار نہ ہوئے۔اس کے بعد مہمان خانے میں پہنچے۔حضور نے خود ان کے بینتر اتارنے کے لئے ہاتھ بڑھایا مگر خدام نے اتار لیا حضور نے اسی وقت دو نواری پلنگ منگوائے اور ان کے بہتران پر کروائے اور ان سے پوچھا۔آپ کیا کھائیں گے۔اور خود ہی فرمایا کیونکہ اس طرف چاول کھائے جاتے ہیں اور رات کو جہ کے لئے پوچھا۔غرض یہ کہ ان کی تمام ضروریات اپنے سامنے مہیا فرمائیں اور جب تک کھانا آیا وہیں ٹھہرے رہے۔اس کے بعد حضور نے فرمایا کہ ایک شخص جو اتنی دُور سے آتا ہے۔راستہ کی تکالیف اور صعوبتیں برداشت کرتا ہے۔یہاں پہنچ کر سمجھتا ودھ