قندیلیں — Page 33
منگوانے شروع کئے اور مہمانوں کو دیتا رہا۔میں عشاء کے بعد حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ بغلوں میں ہاتھ دیئے بیٹھے تھے اور ایک صاحبزادہ جو غالباً حضرت امام جماعت الثانی تھے پاس لیٹے تھے اور ایک شمستری چوغہ انہیں اوڑھ رکھا تھا۔معلوم ہوا کہ آپ نے بھی اپنا لحاف بچھونا طلب کرنے پر مہمانوں کے لئے بھیج دیا میں نے عرض کیا کہ آپ کے پاس (حضور کے پاس کوئی پارچہ نہیں رہا اور سردی بہت ہے۔فرمانے لگے مہمانوں کو تکلیف نہیں ہونی چاہیے۔اور ہمارا کیا ہے رات گزر جائے گی۔نیچے آکر میں نے نبی بخش نمبردار کو بہت برا بھلا کہا کہ تم حضرت صاحب کا لحاف اور بچھونا بھی لے آئے۔وہ شرمندہ ہوا اور کہنے لگا کہ جس کو دے چکا ہوں اس سے کس طرح واپس لوں اور پھر میں مفتی فضل الرحمان سے یا کسی اور سے ٹھیک یاد نہیں رہا۔لحاف بچھونا مانگ کو اوپر لے گیا۔آپ نے فرمایا۔کسی اور کو دے دو۔مجھے تو اکثر نیند بھی نہیں آیا کرتی۔اور میرے اصرار پر بھی آپ نے نہ لیا اور فرمایا کسی مہمان کو دے دو۔پھر میں لے آیا۔د اصحاب احمد جلد چهارم صفحه (۱۳۵) خلال اور جمال حضرت منشی ظفر احمد صاحب نے بیان فرمایا کہ ایک دفعہ حضرت اقدس کو خارش ہو گئی اور انگلیوں کی کھائیوں میں پھنسیاں تھیں اور تر تھیں۔دس گیارہ بجے دن کے " میں نے دیکھا تو آپ کو بہت تکلیف تھی۔میں تھوڑی دیر بیٹھ کر چلا آیا۔عصر کے بعد جب میں پھر گیا۔تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔میں نے عرض کی کہ خلات معمول آج حضور کیوں چشم پرنم ہیں۔آپ نے فرمایا کہ میرے دل میں ایک خیال