قندیلیں — Page 34
۳۴ آیا کہ اے اللہ ! ایک عظیم الشان کام میرے سپرد ہے اور میری صحت کا یہ حال ہے۔اس پر مجھے پر بیت الہام ہوا کہ دو تیری صحت کا ہم نے ٹھیکہ لیا ہوا ہے۔فرمایا کہ اس الہام نے میرے وجود کا ذرہ ذرہ ہلا دیا اور میں نہایت گریہ وزاری کے ساتھ سجدہ میں گر گیا۔خدا جانے کس قدر عرصہ مجھے سجدہ میں لگا۔جب میں نے سر اٹھایا تو خارش بالکل نہ رہی اور مجھے اپنے دونوں ہاتھ حضور نے دکھائے کہ دیکھو کہ ہے ؟ میں نے دیکھا تو ہا تھ بالکل صاف تھے اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کوئی پھنسی نکلی ہی نہیں۔د روایات ظفر، اصحاب احمد جلد چهارم صفحه ۱۳۴ - ۱۳۵) - خدائی کے دعوی دار سے علاج کا انکار حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی سے روایت ہے کہ حضرت صاحب کو دوران سر کا عارضہ تھا۔ایک طبیب کے متعلق سنا گیا کہ وہ اس پر خاص ملکہ رکھتا ہے۔اسے بلوایا گیا۔کرایہ بھیج کر کہیں دور ہے۔اس نے حضور کو دیکھا اور کہا کہ دو دن میں آرام کر دوں گا۔یہ سن کر حضرت صاحب اندر چلے گئے اور حضرت مولوی نور الدین صاحب کو رقعہ لکھا کہ اس شخص سے میں ہرگز علاج نہیں کردانا چاہتا۔یہ کیا خدائی کا دعوی کرتا ہے۔اس کو واپس کرایہ کے روپے اور مزید پچیس روپے پیچ ے کہ یہ دیکھا اسے رخصت کر دو۔گردد ته أنه لا الحجاب احمد جلد چهارم صفحه ۱۰۷)