قندیلیں — Page 16
14 اور اس وقت دو تین باہر سے آئے ہوئے احمد کی بھی آپ کی خدمت میں سائنر تھے۔کسی شخص نے دروازہ پر دستک دی۔اس پر ماعز الوقت احباب میں سے ایک شخص نے اٹھ کر دروازہ کھولنا چاہا۔حضرت مسیح موعود نے یہ دیکھا تو گھبرا کر اُٹھے اور فرمایا محضریں شہریں میں خود کھولوں گا۔آپ دونوں مہمان ہیں اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مہمان کا اکرام کرنا چاہیئے ؟" ر تاریخ احمدیت جلد سوم صفحه ۵۹۵) مستعمل لباس پہنے ہیں عار نہیں ایک دفعہ حضرت میر نا مہ نواب صاحب نے اپنے ایک عزیز کو جو غریب تھا جسے کوٹ کی ضرورت تھی اپنا ایک استعمال شدہ کوٹ بھجوایا میر صاحب کے اس عزیز نے برا منایا کہ مستعمل کوٹ بھیجا گیا ہے اور نا راضگی میں کوٹ واپس کر دیا۔جب خادم اس کوٹ کو واپس لا رہا تھا تو اتفاق سے اس پر حضرت مسیح موعود کی نظر پڑ گئی۔آپ نے اس سے حال دریافت فرمایا۔اور جب آپ کو یہ معلوم ہوا کہ کوٹ میر صاحب کو واپس جا رہا ہے تو حضرت مسیح موعود نے خادم سے کوٹ لے لیا اور فرمایا۔واپس کرنے سے میر صاحب کی دل شکنی ہوگی تم مجھے دے جاؤ میں خود یہ کوٹ پہن لوں گا۔اور میر صاحب کو کہہ دیتا کہ کوٹ ہم نے اپنے لئے رکھ لیا ہے۔(تاریخ احمدیت۔جلد سوم صفحه ۵۹۷)