قندیلیں — Page 17
16 جو خاک میں ملے سے ملتا ہے آشنا ایک دفعہ حضرت مسیح موعود مغرب کی نماز کے بعد مسجد مبارک کی اوپر کی چھت پر چند مہمانوں کے ساتھ کھانا کھانے کے انتظار میں تشریف فرما تھے۔اس وقت ایک احمدی دوست میاں نظام الدین صاحب ساکن لدھیانہ جو بہت غریب آدمی تھے اور ان کے کپڑے بھی پھٹے پرانے تھے حضور سے چار پانچ آدمیوں کے فاصلہ پر بیٹھے تھے۔اتنے میں چند معزز مہمان آکر حضور کے قریب بیٹھتے گئے۔اور ان کی وجہ سے ہر دفعہ میاں نظام الدین کو پرے ہٹنا پڑا حتی کہ وہ ہٹتے ہٹتے جوتیوں کی جگہ پر پہنچ گئے۔اتنے میں کھانا آیا تو حضور نے جو یہ نظارہ دیکھ رہے تھے ایک سالن کا پیالہ اور کچھ روٹیاں ہاتھ میں اٹھا لیں اور میاں نظام الدین سے مخاطب ہو کر فرمایا : آدمیاں نظام الدین ہم اور آپ اندر بیٹھ کر کھائیں " یہ فرماکر حضور مسجد کے ساتھ والی کوٹھڑی میں تشریف لے گئے اور حضور نے اور میاں نظام الدین نے کوٹھڑی کے اندر بیٹھ کر ایک ہی پیالہ میں کھانا کھایا۔اس وقت میاں نظام الدین خوشی سے پھولے نہیں سماتے تھے۔اور جو لوگ میاں نظام الدین کو عملاً پر سے دھکیل کر خود حضرت مسیح موعود کے قریب بیٹھ گئے کئے تھے وہ شرم سے کئے جاتے تھے۔ز تاریخ احمدیت جلد سوم صفحه ۶۰۴