قندیلیں

by Other Authors

Page 141 of 194

قندیلیں — Page 141

پھر ایا گیا۔اور طعن و تشنیع کی گئی اور مذاق اڑایا گیا۔تو اس وقت " ڈیلی میل" کے نمائندہ نے اس ذکر کو زندہ رکھنے کے لئے ایک ایسا بیان دیا جو تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔وہ کہتا ہے کہ میں نے دیکھا کہ با وجود اس کے کہ اس شخص پر انتہائی ذلت پھینکی جا رہی تھی وہ کابل کی گلیوں میں پابجولاں پھرتا ہوا ایک آہنی عزم کے ساتھ مسکرا رہا تھا۔اس کی روح غیر مفتوح اور ناقابل تسخیر تھی کہ اس کا نظارہ کبھی بھی بھلایا نہیں جا سکتا۔ہمارے سامنے اس پر پتھر برسے لیکن اس نے اُف تک نہ کی۔ہاں پنفراڈ سے پہلے صرف یہ خواہش تھی کہ مجھے دو نفل پڑھنے کی اجازت دی جائے " تشحید الاذہان ستمبر ۶۱۹۸۵ ) • جان ظفر ظفر کے خدا کے سپرد محترمہ امتہ الحی صاحبہ بنت حضرت چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب لکھتی ہیں کہ میں ۱۹۶۳ ء میں لنڈن تھی۔ایک دن ابا مجھ سے ملنے تشریف لائے تو ان کے چہرے پر عجیب اثر تھا۔میں سمجھ نہیں پا رہی تھی عرض کیا کیا بات ہے؟ فرمایا تخلیہ میں تم سے بات کرنی ہے۔چنانچہ ہم دونوں کمرے میں آگئے۔فرمایا۔وہ جو ہوتے ہیں ناں جن کے کپڑوں میں پیوند لگے ہوتے ہیں اور بالوں میں دھول ہوتی ہے۔وہ اللہ کے بڑے لاڈلے ہوتے ہیں۔مجھے اللہ نے بہت مال و دولت عطا فرمائی مگر میں نے اپنے لئے یا تمہارے لئے کچھ نہیں رکھا۔میں آج تم سے یہ اجازت لینے آیا ہوں کہ آئندہ بھی اپنے اللہ سے ایسا ہی کرنے کی توفیق مانگتار ہوں گا۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تجھے اسے جان ظفر کچھ نہیں ملے گا۔میں نے تمہیں اور بچوں کو اللہ کے سپرد کیا اور وہ کانی ہے کیا تمہیں منظور ہے۔