قندیلیں — Page 140
۱۴۰ تمہارا اپنا لحاف کیا ہوا۔ان کے اس جواب پر کہ میں نے وہ ملک کو دے دیا ہے حضرت انہاں جان نے اسی وقت اپنا لحاف حضرت میاں محمد عبد اللہ خاں صاحب کو دے دیا اور حضرت اماں جان کو حضور نے مہیا کر دیا۔(اصحاب احمد جلد دوازدهم ۱۶۲ - ۱۶۳) غیر مفتوح ناقابل تسخیر حب حضرت مرزا طاہر احمد صاحب امام الرابع حضرت صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب کی استقامت کا واقعہ بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں۔پھر اس زمین پر حضرت صاحبزادہ نعمت اللہ صاحب آپ کی پیروی میں آئے۔وہ جانتے تھے کہ دھوئی ایمان کے نتیجہ میں انسان کو کیا کیا مصیبتیں سہنی پڑتی ہیں اور مصائب کے کن کن راستوں سے گزرنا پڑتا ہے۔حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کی یاد ان کے ذہن اور دل میں تازہ تھی۔اس کے باوجود انہوں نے وہی نمونہ دکھایا جو اس سے پہلے ایک مرد مجاہد نے دکھایا اور کوئی پرواہ نہیں کی۔قید کی حالت میں انہوں نے ایک خط لکھا جو کسی ذریعہ سے ایک احمدی دوست تک پہنچ گیا۔وہ لکھتے ہیں۔رو مسجد سے خدا کا عجیب سلوک ہے کہ روزن بند ہے اور دن کے وقت بھی رات کی تاریکی ہے مگر جوں جوں اندھیرا بڑھتا ہے میرے دل کو روشن کرتا چلا جاتا ہے اور ایک عجیب نور کی حالت میں میرا وقت بہر ہو رہا ہے۔" ان کو اس قید خانے سے نکال کر حضرت صاحبزادہ عبداللطیف کی طرح گلیوں میں