قندیلیں

by Other Authors

Page 95 of 194

قندیلیں — Page 95

۹۵ ہوا۔اذْهَبْ إِلى فِرْ عَوْنَ 66 ر صاجزادہ صاحب کے چشم دید حالات ، صفحہ ۱۳) آپ نے جہاں پہنچنا تھا پہنچ گئے بیعت کرنے کے بعد حضرت مولوی برہان الدین صاحب ہر سال قادیان تشریف لے جاتے۔حضور فرمایا کرتے تھے یہ مولوی صاحب آپ کے آنے سے مجھے آرام ملتا ہے۔" حضرت اقدس جب سیر کر کے واپس گھر کی طرف آتے تو آپ آگے بڑھ کر آپ کی تعلین مبارک اپنی کندھے والی چادر سے صاف کر دیتے۔مستری نظام الدین سیالکوئی سنایا کرتے تھے کہ مولوی صاحب کا اخلاص جنون کی مدتک پہنچا ہوا تحفظ چنانچہ ۱۹۰۴ میں جب حضرت اقدس سیالکوٹ تشریف لے گئے تو مولوی صاحب بھی وہاں پہنچے گئے۔وہاں حضرت اقدس خدام کے ہمراہ کہیں جارہے تھے کہ کسی عورت نے کھڑکی سے حضور پر راکھ ڈال دی۔حضور گزر گئے مگر راکھ مولوی صاحب کے سر پر پڑی۔آپ پر محویت طاری ہوگئی اور نہایت خوشی سے فرمانے لگے یا اسے مائے پا : " یعنی بڑھیا اور راکھ ڈالو حضرت اقدس جب سیا لکوٹ سے واپس آئے۔اور آپ حضور کو الوداع کہنے کے بعد پیچھے رہ گئے تو بعض شریروں نے آپ کی بے عزتی کی بلکہ پکڑ کر منہ میں گویر تک ٹھونس دیا۔لیکن آپ نے نہایت بشاشت کے ساتھ فرمایا " اوبر با نیا یہ نعمتاں کتھوں یعنی اسے برہان الدین یہ نعمتیں روزہ روز کہاں میستر آتی ہیں۔ایک مرتبہ قادیان دار الامان میں حضرت اقدس شہ نشین پر جلوہ افروز تھے۔حضرت مولوی نورالدین صاحب حضرت مولوی عبد الکریم صاحب اور دوسرے بزرگ بھی مجلس میں بیٹھے تھے کہ مولوی صاحب نے زارو قطار رونا شروع کر دیا اور بے اختیاری کی وجہ سے ہچکی بندھ گئی