قندیلیں

by Other Authors

Page 94 of 194

قندیلیں — Page 94

۹۴ گویا زمین سے آسمان تک بجلی کا ایک بہت بڑا ستون تیار ہوا اور اس وقت بہت زیادہ پھیلی و روشنی پھیل گئی۔یہ نظارہ تھوڑی دیر رہا۔مگر وہاں موجود تمام سپاہیوں کے دل گئے۔بہت ڈر گئے اور کہنے لگے کہ سنگسار کیا جانے والا توکوئی ولی اللہ اور ہم بزرگ معلوم ہوتا ہے۔( الفضل ۱۹ تبوک (۱۱۹۶۸) تعمیل حکم ادب سے برتر ہے جب حضرت صاحبزادہ سید عبد الطیف صاحب قادیان سے روانہ ہوتے تو حضور اور حضور کے خدام احمد نور واحب کابلی کے بیان کے مطابق ڈیڑھ میل تک اور بعض کے بیان کے مطابق زالہ کی نہر تک چھوڑنے کے لئے تشریف لے گئے۔یہ غالباً آخر جنوری ۱۹۰۳ء کا واقعہ ہے۔صاحبزادہ صاحب رخصت ہونے لگے تو آپ جوش عقیدت سے حضرت اقدس کے قدموں میں گر پڑے اور دونوں ہاتھوں سے حضور کے قدم مبارک پکڑ ئے۔اور عرض کیا کہ میرے لئے دعا فرمائیں تو حضرت اقدس نے فرمایا کہ اچھائیں آپ کے لئے دعا کرتا ہوں۔آپ میرے پاؤں چھوڑیں۔انہوں نے پاؤں نہ چھوٹے نے پر اصرار کیا۔حضرت اقدس نے فرمایا الامرفوق الادب تب صاحبزادہ صاحب نے یہ لفظ سنتے ہی پاؤں چھوڑ دیئے۔حضور سے رخصت ہو کر آپ سید ھے بٹالہ آئے۔وہاں سے لاہور پہنچے۔تمام راستہ صاجزادہ صا قرآن کریم کی تلاوت کرتے رہے۔۔۔۔آخر کار جب آپ علاقہ خوست کی طرف روانہ ہوئے راستہ میں آپ کو الہام